علماء باجوڑ کا اختلافات کو ختم کرنے لئے متفقہ فیصلہ

0

باجوڑ (باجوڑنیوز) تفصیلات کے مطابق باجوڑ کے سب سے قدیم اور مرکزی ادارہ  جامعہ مدینہ العلوم نویکلے ضلع باجوڑ میں اکابر علماء کرام و شیوخ عظام کا اجتماع ہوا جن کا  کا علاقے کے بھلائی کیلئے درجہ ذیل امور پہ اتفاق ہوا۔

1 : ہم سب علماء کا اس بات پہ اتفاق ہیں کہ ہمارا آپس میں کوئی اصولی اختلاف نہیں۔ سب مکاتب فکر اہل سنت والجماعت ہیں۔

2 : اجتھادی اختلافی مسائل، جو کے اسلام کا حسن ہیں، کو کبھی تکفیر، تضلیل و تفسیق  کی حد تک نہیں لے جائیں گے۔ کیونکہ یہ نہ دین اسلام کی خدمت ہے اور نہ ہی ملک و علاقے کے مفاد میں ہے۔ اجتہادی مسائل میں راجح مرجوح ہوتا ہے نہ کے منکر۔

3 : ایک دوسرے کا تہہ دل سے احترام کریں گے۔ منبرو محراب سے ایسے بیانات نہیں کرینگے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔

4 : سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پہ جو لوگ مناظرہ بازی اور ایک دوسرے کی تضحیک و تفسیق کرتے ہیں ہم ان سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ ذاتی تشہیر کیلئے دین اسلام اور باجوڑ کے علماء کرام کی عزت سے کھیلنا بند کریں۔ باجوڑ کی پر امن فضا کوفتنوں اور نفرتوں والا نہ بنائیں۔  ایسے لوگ جو کسی بھی جماعت  کے ساتھ اپنا تعلق ظاہر کرتاہوں ہم تمام مذہبی کے ذمہ داروں کے حیثیت سے  ان  افراد سے برآت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ان کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیں۔ اگر ہدایت نصیب میں نہیں تو ایسا نشان عبرت بنادیں کہ آیندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔ ان کے کسی قول فعل کا ہمارےساتھ کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہم بحیثیت ذمہ داران ان کےاس افعال کو رد کرتے ہیں۔

5 : ہر جماعت سے تین ارکان مع امیر جماعت کا انتخاب کیا جائیگا۔ ہر تین مہینے بعد متحدہ علماء باجوڑ کا اجلاس ہوگا۔ اجلاس کے انعقاد، جگہ اور تاریخ کےتعین کی ذمہ داری مولانا ذاکراللہ صاحب کی ہوگی۔

6 : اپنے اپنے مدارس میں اعتدال کا درس دینگے تاکہ علماء اور طلبہ میں یکجہتی اور امن کے جذبات پیدا ہو۔ اسی طرح اس معاشرے کو اتحاد اوراتفاق کی طرف لے کے جائیں گے نہ کے نفرت اور تشدد کی طرف۔

7 : باجوڑ کے علماء، طلبہ اور سارے مسلمان بھائیوں سے یہ التماس ہے کہ جو شر پسند عناصر اس پرامن باجوڑ کو نفرت اور تشدد سے داغدار کرنا چاہتے ہیں ان کو توجہ نہ دیں۔ ان سستی شہرت کے بھوکوں کےبجائے آپ ان اکابر علماء پہ اعتماد کریں جو آج اس شوریٰ کا حصہ ہیں اورآپس میں مکمل متحد و متفق ہیں۔

8 : باجوڑ کا تقریبا ہر طالب ان اکابر علماء کا بالذات یا بالواسطہ ہے۔ لہذا آپ سے درخواست ہے کہ ان اکابر علماء پہ اعتماد کریں اورفروعی اختلافات میں پڑ کراپنے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچائے۔

9 : ہر مکتب فکر کے علماء و طلباء ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کریں اور ایک دوسرےکے ساتھ خوشی اورغمی کوتقسیم کریں۔

10 : باجوڑ کے باہر وہ حضرات جو مناظرہ بازی اور تشدد میں مشہور ہیں، سارے حضرات سے گزارش ہے کہ ان کو یہاں کسی پرگرام میں مدعو نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کے بیان کردہ اختلافی مسائل کاباجوڑمیں  تشہیر کیا جائے کیونکہ اس سے باجوڑ کا امن خراب ہونا اور علماء و طلباء کے ساتھ عوام الناس کے درمیان حسد اور بے اتفاقی انا یقینی ہے۔

11 : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں جن مسائل پہ اتفاق ہوا ہے ان کو اختلافی نہیں بنایا جائیگا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی فتویٰ دیا جائیگا۔

12 : مسجد کا امام، خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو، دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے احباب اس کے اعمال اورانتظامی امور میں کسی قسم کی مداخت نہیں کرینگے۔

دستخط اکابر علماء و مشائخ باجوڑ

1: نمونہ اسلاف شیخ الحدیث والقران حضرت مولانا عبدالجبار صاحب، امیرجماعت اشاعت التوحید والسنہ، صوبہ خیبر پختون خواہ۔ مدیر جامعہ تعلیم القران ترخو۔

2: نمونہ اسلاف حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب، عرف کوثر صاحب الحق صاحب۔

3: حضرت مولانا عبد المتین صاحب، امیر دعوت و تبلیغ، ضلع باجوڑ۔

4 : حضرت مولانا محمد لائق صاحب، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام ضلع باجوڑ، نمائندہ شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد صادق صاحب سابقہ ممبر قومی اسمبلی۔

5 :  شیخ الحدیث مولانا وحید گل صاحب، امیر جماعت اسلامی ضلع باجوڑ۔

6 : شیخ القرآن حضرت مولانا عنایت اللہ صاحب، مدیر جامعہ الثانویہ السلفیہ۔

7 : نمونہ اسلاف شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل حق صاحب، عرف ڈبر صاحب الحق صاحب، شیخ الحدیث جامعہ انوار العلوم خار۔

8 :  قاری عبدالمجید صاحب، سابق امیر جماعت اسلامی ضلع باجوڑ۔

9 :  شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف فاروقی صاحب، جامعہ مدینہ العلوم نویکلے۔

10 : حضرت مولانا فضل عظیم صاحب ، سرپرست جمعیت علماء اسلام ضلع باجوڑ۔

11 : حضرت مولانا فضل واحد صاحب ، صدر مدرس جامعہ احیاء العلوم و صدر اتحاد العلماء باجوڑجماعت اسلامی۔

12 : حضرت مولانا امان اللہ  صاحب، مسئول شوریٰ علماء اھل حدیث ضلع باجوڑ۔

13 : حضرت مولانا امیر جمال صاحب۔

14 : حضرت مولانا امیر ذادہ صاحب۔

15 : حضرت مولانا محمد یوسف صاحب استاد جامعہ تعلیم القراٰن ترخو۔

16 : حضرت مولانا طارق جمیل صاحب ، مدیر جامعہ دار القراٰن۔

17 : حضرت مولانا احسان اللہ صاحب ، استاد حدیث الجامعہ الاسلامیہ قذافی۔

18: حضرت مولانا خیر الرحمان صاحب، دعوت وتبلیغ۔

19 : حضرت مولانا بزرگ یوسف صاحب ، جماعت اھل حدیث۔

20 : حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب، استاد جامعہ مدینہ العلوم۔

21 : حضرت مولانا محمد نور صاحب، شیخ الحدیث ریاض العلوم برہ چینہ گئی، امیر جمعیت اسلام ماموند۔

22: شیخ الحدیث حضرت مولانا ذاکراللہ صاحب، مدیر جامعہ مدینہ العلوم و مسئول وفاق المدارس العربیہ باجوڑ۔

اعلامیہ پر ان سب حضرات کے دستخط ثبت ہوئے اور ان علماء کرام کے حکم سے یہ اعلامیہ برائے افادہ عام شائع کیا جاتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.