دینی مدارس کے ساتھ تعاون کیجئے (مولانامجاہد خان ترنگزئی)

0


اہل اسلام یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آسمانی تعلیمات ہی نسل انسانی کی صحیح راہنمائی کی ضامن ہیں،اور انسان محض اپنی انفرادی یا اجتماعی عقل وخواہش کی بنیاد پر مسائل حل کرنے اور مثالی انسانی سوسائٹی تشکیل دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا،اور چونکہ دنیا کے تمام مذاہب میں صرف اسلام ہی آسمانی تعلیمات کو مکمل اور محفوظ حالت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، اس لیے اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اپنی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں قرآن وسنت پر مکمل طور پر عمل کریں۔اور انہیں دعوت دیں کہ وہ محض انسانی عقل وخواہش پر بھروسہ کرنے کی بجائے وحی الہٰی کی بالاتر راہنمائی کو قبول کریں اور آسمانی تعلیمات کے محفوظ ترین اور فائنل ایڈیشن قرآن وسنت کی طرف رجوع کرکے انسانی سوسائٹی کو عقل وخواہش کی بے لگام پیروی سے نجات دلائیں،تاکہ دنیا کی انسانی آبادی مجموعی طور پر فطری قوانین اور نظام کے تحت امن وخوشحالی کی حقیقی منزل سے ہمکنار ہوسکے۔
اس پس منظر میں ہر مسلمان اور عورت کا قرآن وسنت کی تعلیمات سے آراستہ ہونا اس کے دینی فرائض میں شامل ہے۔اور مسلمانوں کی مذہبی قیادت اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ وہ ہر مسلمان خاندان اور فرد کو ضروری دینی تعلیمات سے بہر ہ ور کرنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہوکر گزرے اور اس معاملہ میں کوئی کو تا ہی روانہ رکھے۔اسی مقصد کے لیئے دینی مدارس وجامعات کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
مدارس اُمت مسلمہ کا عظیم سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔ھمارے دین وایمان اور عقائد واعمال کی حفاظت اور بقاء کا ذریعہ ہیں۔الحمداللہ دینی مدارس و جامعات ملک وقوم کو دینی وعلمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور معاشرے کی علمی ودینی رہنمائی کی ضرورت کو علماء اور حفاظ کی شکل میں بدرجہ اتم پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔موجود ہ ایک سال میں صرف وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق مدارس وجامعات میں قرآن کریم کے جو حفاظ تیار ہوئے ان کی تعداد اٹھتر(78) ہزار ہے اور انتیس (29) ہزار علما ء تیار ہوئے۔ اِن مدارس میں مجموعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں ایسے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کی تمام ضروریات مدارس سے پوری کی جاتی ہیں جن میں کھانا،رہائش،لباس،کتب علاج معالجہ اور ماہانہ وظائف شامل ہیں۔
اس بات سے تمام لوگ واقف ہیں کہ وطن عزیز کے دینی مدارس کی کوئی مستقل لگی بندھی آمدنی نہیں ہوتی اور نہ حکومت اور سرکاری اداروں سے ہر قسم کی امداد وصول کی جاتی ہے،بلکہ مدارس توکل علی اللہ اور توجہ الی اللہ کے بھروسے پر اور مخیروا ھل خیر حضرات کے تعاون سے تعلیمی و تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔یہ ادارے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور با توفیق مسلمانوں کے تعاون سے ہی چلتے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا کورونا وبا کی وجہ سے کرب واذیت میں مبتلا ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں پوری دنیا کو با لعموم اور ترقی پذیر ممالک کو با لخصوص معاشی کمزوری اور بد حالی کا سامنا ہے۔ معیشت کی بد حالی کا اثر معاشرے کے تمام شعبوں پر پڑا رہا ہے۔ مسلمانان عالم بھی دینی ومعاشی اعتبار سے پریشانی کا شکار ہیں۔ دینی مدارس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور معیشت کی خوشحالی یا بدحالی کے اثرات دینی مدارس پر بھی پڑے ہیں۔
اس وقت دیگر شعبوں کی طرح مساجد ومدارس کو بھی معاشی حوالے سے سخت بحران کا سامنا کرنا پڑرہاہیں۔مدارس کے سالانہ اخراجات کے 50فیصد سے زائد حصے سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کے اثرات اساتذہ اور طلباء وطالبات پر بھی پڑیں گے۔
رجب، شعبان، اور رمضان المبارک کے مہینوں میں اہل حضرات مدارس کے ساتھ زکوٰاۃ،صدقات اور عطیات کے مُد میں تعاون کرتے ہیں۔ جسکی بدولت تمام مدارس میں زیر تعلیم طلباء وطالبات کے خوراک اور رہائش، اساتذہ کرام کے تنخواؤں اور دیگر اخراجات پورے کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ مدارس کے چھوٹے موٹے تعمیری کام بھی انہی مہینوں میں کئے جاتے ہیں۔ لیکن رواں برس کورونا وبا پاکستان میں رجب کے مہینے سے شروع ہوا ہے اور ابھی تک یہ وبائی صورت حال اور لاک ڈاؤن جاری ہے۔ جسکی وجہ سے دینی مدارس کو کافی مشکل معاشی صورت حال کا سامنا ہے۔اس بحرانی کیفیت کے باعث کئی چھوٹے مدارس او مکائب اپنے تعلیمی سلسلہ کو انتہائی محدود اور بڑے مدارس بھی طلباء کو کم سے کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اس وقت بحیثیت مجموعی جو صورت حال ہے اگر چہ معاشرے کے دیگر کئی طبقات میں مستحق افراد ہمارے تعاون اور مدد کے منتظر ہیں مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہئیے کہ دینی مدارس کے ساتھ بھی تعاون کی اشد ضرورت ہے اور یہ ہماری دینی وملی ذمہ داری بھی ہے۔ تمام اہل خیر حضرات آگے آئیں اور اس مشکل کی گھڑی میں ایمان کے مراکز کے معاشی بحران کے خاتمے میں بھر پور کردار ادا کریں۔ تمام باتوفیق مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ دینی اداروں کے ساتھ عطیات،صدقات،زکوٰاۃ،عُشراور دیگر شکلوں میں تعاون فرمائیں۔ان شاء اللہ یہ تعاون آپکے دنیا وآخرت کے سنورنے کا باعث بنے گا

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.