مدارس اسلامیہ بین الاقوامی طاغوتی شکنجے میں (حافظ مومن خان عثمانی )

0

مدارس اسلامیہ ہمیشہ سے دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کٹک رہے ہیں اور ان کاقلع قمع کرنے کے لئے ہردورمیں کوششیں کی گئیں،ان کو ملیامیٹ کرنے کے لئے منصوبے بنائے گئے،انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے سازشوں کے جال پھیلائے گئے،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور اب تک ان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہ ہوسکی مگر اب ایسے لگتا ہے کہ طاغوتی قوتوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے ان مدارس کے خلاف دائرہ تنگ کردیاہے بلکہ ان کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے ”فنانشل ایکشن ٹاسک فورس“کیا بلا ہے؟ایف،اے، ٹی، ایف (financial action task force) ایک بین الحکومتی یعنی انٹرل گورنمنٹل ادارہ ہے جسے 1989ء میں جی سیون ممالک (g.7)امریکہ،برطانیہ،کنڈا،فرانس،اٹلی جرمنی اور جاپان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلہ میں درپیش خطرات سے بچانے کے لئے قائم کیا تھا۔شروع میں اس کا بنیادی مقصدصرف منی لانڈرنگ کو روکناتھامگر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت (ٹیررفنانسنگ)کو روکنا بھی اس کے مقاصد میں شامل کردیاگیا۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد ابتدا ء میں 16 تھی جسے بڑھا کر 39 کردیاگیا،اس میں امریکہ برطانیہ،چین،بھارت اور ترکی سمیت 25ممالک،خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔ریجنل گروپس اور 28 آبزورباڈیز ہیں،ان آبزور باڈیزمیں اقوام متحدہ،ورلڈ بینک،آئی ایم ایف،یورپی یونین وغیرہ شامل ہیں۔یواین سیکیورٹی کونسل کی ریزولیوشن 2462پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک لازم کرتا ہے کہ وہ ”فیٹف“(fatf)کی باتوں کو من وعن تسلیم کریں،اس کے ممبرز سال میں تین مرتبہ فیصلہ کن اجلاس میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اس کا ہیڈکواٹر فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ڈسٹرک 16میں واقع آرگنائزیشن فار اکنامک کواپریشن اینڈ ڈولپمنٹ (o.e.c.d)کی عمارت کے اندر قائم ہے۔(F.A.T.F)مختلف گروپس کے ذریعے اپنا کام کرتا ہے ایشیا میں یہ ایشیا پسیفک گروپ کہلاتا ہے۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے اقدامات کرناہیں۔یہ بین الحکومتی ادارہ جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت میں استعمال ہونے والی رقوم کو روکنے کے لئے بھی اقدامات تجویز کرتا ہے۔دنیا کے امیر اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کے اجلاس جی 20 میں بھی (F.A.T.F)اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے g.20 میں انڈیا بھی شامل ہے۔(F.A.T.F)کی واچ لسٹ میں شامل ممالک کو دو کیٹیگریز میں رکھا جاتا ہے۔”گرے لسٹ“اور ”بلیک لسٹ“گرے لسٹ سے مراد (Corperation International ICRG Group Review)ہے گرے لسٹ میں شامل ممالک کے لئے بھی بیرونی ممالک سے قرض لینا اور سرمایہ کاری کرنا مشکل اور ٹریڈ محدودہوجاتا ہے (F.A.T.F)کابنیادی مقصد مغربی ممالک کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے ممالک کے گرد گھیرا ؤ تنگ کرناہے اور ان کو معاشی طورپر کمزور رکھنا ہے۔ہمارے ملک خدادمیں F.A.T.Fکے مقاصد کیا ہیں؟ا ب پاکستان کو جون 2021ء تک کا وقت دیاگیا ہے کہ وہ فیٹف کے قوانین کے مطابق عمل کرکے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالے۔پاکستان کو ان امور کے لئے پابندبنایا گیا ہے:(1)کالعدم تنظیموں کے اثاثے ضبط کرے (2)کوریئر کے ذریعے ہونے والی ٹیررفنانسنگ روکے (3)F.A.T.F کے 10 نکاتی پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے (4)روپیہ کی تقسیم وترسیل پر مامور بینکنگ،نان بینکنگ سیکٹراور ویلیو ٹرانسفر سروسز کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے لئے انٹر ایجنسی تعاون کا فریم ورک لاگو کیا جائے۔(5)کالعدم تنظیموں اور اس سے وابستہ افراد کی سخت مانیٹرنگ کی جائے اور ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے انٹر ایجنسی تعاون کا فریم ورک لاگو کیاجائے۔(6)جو افراد پکڑے جائیں ان کے خلاف سخت کیس بناکر عالمی معیارکے مطابق پراسیکیوشن اورعدلیہ کی بھرپور استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے (7)1276کالعدم تنظیموں اور ان سے وابستہ ن1373افراد کو منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کے قوانین کے تحت سزادی جائے (8)حساس نوعیت کے کیسزکی نگرانی بڑھائی جائے (9)ٹیررفنانسنگ روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی پیداکی جائے (10)کیش کوریئرکے ذریعے دہشت گردوں تک پیسے کی رسائی کو روکاجائے (11)دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے،دہشت گردوں کی منقولہ،غیرمنقولہ جائیداد ضبط کی جائے،اگرپاکستان ایف،اے،ٹی،ایف کے یہ مقاصد ومطالبات پورے نہ کرپائے تو اسے ایساملک قراردیاجائے گا جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت ہوتی ہے اور پاکستان پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔اس مقصد کے لئے 27ستمبر 2020 ء کو قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک قانون سازی عمل میں لائی گئی جو صدرمملکت کی طرف سے منظوری کا شرف حاصل کرنے کے بعد قانون کا حصہ بن گئی۔اس قانون سازی میں جس عجلت،تحکم اور دھاندلی سے کام لیا گیا اس پر اپوزیشن کے تحفظات ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ بل معمول کی قانون سازی کی بجائے خالص بیرونی دباؤکے نتیجے میں منظورکیا گیا،اس بل میں پاکستان عوام اور ان کے مذہبی رجحانات کو نہایت بری طرح پامال کیا گیا اس کے لئے حالات میں کشیدگی اور ہنگامی صورت حال پیدا کرکے بغیرکسی بحث وتمحیص کے جلدی سے منظورکیا گیاجس کے بنیادی اجزا ء یہ ہیں (1)اینٹی من لانڈرنگ….رقوم کی منتقلی میں دستاویز ی عمل اور عالمی قوانین کی شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کرکرنا اور ان قوانین کے برخلاف رقوم کی منتقلی کو روکنا (2)اینٹی ٹیررازم….عالمی دنیا کی تعریفات کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردانہ مقاصدکے لئے رقوم کی جمع بندی اور منتقلی سے متعلق عالمی خطوط کے مطابق سدباب کرنا (3)اوقاف کنٹرول پالیسی….بل میں اس پالیسی کا دائرہ کار ”اسلام آباد میں وقف املاک بل 2020ء کے عنوان سے اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہوں اور تعلیم گاہوں تک ظاہر کیا گیا ہے۔نئے قواعد میں شامل ”اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کے مطابق:(1)وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کے لئے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈہوگی (2)اس کا انتظام وانصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا(3)بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا (4)وقف کی زمین پر قائم تمام مساجد،امام بارگاہیں،مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں اجائیں گے (5)وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی (6)بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور ۵ سال قیدکی سزاہوسکے گی (7)حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لئے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی (8)منتظم اعلیٰ کسی خطاب،خطبے یالیکچر کوروکنے کی ہدایات دے سکتا ہے (9)منتظم اعلیٰ قومی خومختاری اوروحدانیت کو نقصان پہنچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا (10)ایڈ منسٹریٹرکے کسی حکم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکے گا (11)وقف فردکے نام پر ہوگا،ادارہ کے نام پر نہیں ہوگا یعنی مسجد یامدرسہ کو رقم نہیں دی جاسکتی بلکہ نیچرپرسن (اصلی شخص)کودیں گے (12)مسجد ومدرسہ کو رقم (چندہ)دینے والے اپنے منی ٹریل دینے کے پابند ہوں گے (13)مسجد ومدرسہ کے اخراجات کی فنڈنگ کی تفصیلات یامنی ٹریل نہ ہونے پر عمارت سرکاری تحویل میں منتقل ہوجائے گی (14)وقف ادارے کے تمام عہدیداروں کا مکمل ڈیٹااور ٹیکس ریکاڑد حکومت چیک کرے گی (15)وقف کی رقم کو منتظم اعلیٰ اپنی صوابدید پر کسی بھی مصرف میں استعمال کرسکتا ہے (16)ادارے کے منتظم کو ذراسی شکایت پروارنٹ اور وارننگ کے بغیر ۶ماہ کے لئے اُٹھایاجاسکتا ہے۔ان مندرجات میں اکثرغیرشرعی اور غیراخلاقی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اول مرحلہ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع مذہبی عبادت خانوں اور دینی تعلیم گاہوں کوسرکاری تحویل میں لیاجائے گااور اس کے بعد بتدریج ملک کے دیگر حصوں میں واقع عبادت خانوں اور دینی تعلیم گاہوں پر بھی ہاتھ صاف کیاجائے گا،یہ ہیں وہ مذموم عزائم جن کے لئے موجودہ حکومت وجود میں لائی گئی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.