رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار( مولانا مجاہد خان ترنگزئی)

0


جس طرح موسموں میں موسم بہار ہوتا ہے، ہر طرف پھل پھول نظر آتے ہیں، خوشبو ئیں ہوتی ہیں، سبز لہلہاتے ہوئے درخت نظر آتے ہیں۔اسی طرح رمضان المبارک نیکیوں کا سیزن اور موسم بہار ہے۔اس میں انسان کو جتنی نیکیاں کمانی چاہیئے اتنی نیکیاں کمانا آسان ہے، بلکہ مختلف جگہوں پر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض چیزوں کی saleلگتی ہے،یعنی قیمتی چیزیں کم داموں پر مل جاتی ہیں۔اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں جنت کیsaleلگا دیتے ہیں،توآج کل جنت بہت سستی ملتی ہے، بس ہاتھ اُٹھا کر مانگنے کی بات ہے،اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی دکھانے کی بات ہے۔ اور پروردگار جنت دینے کیلئے آمادہ ہے اسلیئے حدیث پاک میں فرمایا کہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اے رضوان! جنت کے دروازوں کو کھول دے،اب سو چئیے! کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت کے دروازوں کو کھول دیا اور حدیث پاک میں بھی آتا ہے کہ پورا سال جنت کورمضان المبارک کیلئے سجایا جاتا ہے،خوبصورت بنایا جاتا ہے،اور پھر رمضان المبارک کی پہلی رات کواس دروازے اُمت محمد یہؐکے گنہگاروں کیلئے کھول دئیے جاتے ہیں، تو معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت چاہتے ہیں کہ میرے بندے رمضان المبارک کے روزے رکھیں،نیکی کریں، تراویح پڑھیں، قرآن پاک پڑھیں اور ان عبادات کو کرکے جنت کے مستحق بن جائیں۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا خزینہ ہے۔جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل ہوئی سب کی سب رمضان المبارک میں نازل ہوئیں۔ تورات،زبور،انجیل،قرآن مجید یاجو صحیفے نازل ہوئے، سب کے سب رمضان المبارک میں نازل ہوئے۔اسلیئے یہ مہینہ اللہ رب العزت کی خصوصی رحمتوں کا مہینہ ہے۔اسکی رحمتوں کی انتہا دیکھئے کہ نبی کریمﷺ جو رحمت ہیں وہ بھی اس مہینہ کے آنے کا انتظار فرماتے تھے، چنانچہ ایک دعا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی(اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلعناالی رَمضانَ)”اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطافرما اور بخیریت ہمیں رمضان المبارک تک پہنچا۔“ اللہ رب العزت کے محبوب جس مہینہ تک پہنچنے کی تمنا فرماتے ہوں،اس مہینہ کی برکت کا اندازہ تو اس دعا سے بخوبی ہوسکتا ہے۔
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ فرماتے ہیں کہ کشف کی نظر سے اولیاء اللہ نے اللہ کی رحمتوں کی بارش کو جب اُترتے ہوئے دیکھا تو پتہ چلا کہ سال کے باقی مہینوں کی رحمت دریا کے مانند ہے جبکہ رمضان المبارک کی رحمیتں سمندر کی مانند ہیں،کہ جن کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔اس لئے وہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ انسان کے باقی سال کیلئے ایک نمونہ کے مانند ہیں،جس بندے نے رمضان المبارک جس طریقہ سے گزار اللہ تعالیٰ اس کو بقیہ سال اس طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمادیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چاہے کہ تہجد گزار بن جاؤں تو اس کو چاہیئے کہ رمضان المبارک میں تہجد کی پابندی کرے۔جو چاہے کہ میں اپنی آنکھوں کی حفاظت کروں اس کو چاہے کہ رمضان المبارک میں اپنی آنکھوں کی حفاظت کرے۔جو چاہے کہ میں اپنی زبان کی حفاظت کرلوں تو اسے چاہے کہ رمضان المبارک میں اپنی زبان کی حفاظت کرلیں۔جو حو عمل رمضان المبارک میں استقامت کے ساتھ کروگے اللہ رب العزت اپنی رحمت،قدرت،مشیت سے بقیہ سال اس عمل کو کرنے کی توفیق عطا فرما دیں گے۔ حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی اُمت کو عذاب دینا ہوتا تو نہ رمضان عطا فرماتے اور نہ سورۃ اخلاص عطا فرماتے، یہ دو ایسی نعمیتں ہیں کہ ان دو چیزوں کو دینے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نبی کریم ﷺ کی اُمت کو عذا ب دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ شعبان کے آخری دن میں صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور اُن کو بتایا کہ تمہارے اُوپر ایک رحمت کا مہینہ آرہا ہے، جس کے روزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا اور رات کی عبادت کواللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کا ذریعہ بنایا،نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شھرالمواسات یعنی غم خواری اور ہمدردی کا مہینہ ہے، انسان روزہ رکھتا ہے،بھوکا پیا سا رہتا ہے تو نعمتوں کی قدر آتی ہے۔دل میں احساس ہوتا ہے کہ جو لوگ عام سال کے دوران بھوکے پیاسے رہتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہے،جن کے بچے بھوکے پیاسے رہتے ہیں ان کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہے،تو انسان کے دل میں دوسروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔وہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے اوریہی انسانیت ہے۔حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندہ سے فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں بھوکا تھا، تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا،میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا،میں بیمار تھا اور تونے میری بیمار پُرسی نہیں کی، تو وہ بندہ بڑا حیران ہوکر پوچھے گا کہ اے پروردگار! آپ اِن تمام چیزوں سے بلند وبالا ہیں،منز ہ اور مبرہ ہیں،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کائنات کے خزانوں کے مالک ہوکر آپ بھوکے پیاسے ہوں۔اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائیں گے کہ اے میرے بندے! فلاں موقع پر تیرا ایک ہمسایہ بھوکا تھا،پیاسا تھا،اگر تو اسے کھِلا پِلادیتا تو ایسے ہی ہوتا جیسے تونے مجھے کھلا یاپلایا ہو۔اگر تو نے اس کی بیمار پُرسی کی ہوتی، تو ایسے ہی ہوتاجیسے تو نے میری بیمار پُرسی کی ہوتی، اس وقت انسان کی آنکھ کھلے گی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک دوسرے کے ساتھ اُلفت ومحبت کی زندگی گزارنے کاکیا مقام ہے۔ تو یہ مہینہ غمخواری کا مہینہ ہے۔ اب ذرا سوچیئے! کہ جس مہینہ کا نام ہی غم خواری کا مہینہ ہو اگر اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ اللہ کے سامنے اپنے غم بیان کرے،اپنی پریشانیاں بیان کرے،اپنے دو کھڑے سنائیں،اپنی مشکلات کی تفصیل تنہائیوں میں بیٹھ کر دعا میں بتائیں تو پروردگار عالم اس کی غم خواری کیوں نہ فرمائیں؟ جس مہینہ کانام غمخواری کا مہینہ ہے تو معلوم ہوا کہ غمزدوں کیلئے خوشی کی بات ہے،ہم اپنے غم تہجد کے بعد تنہائیوں میں اپنے رب کریم کے سامنے دامن پھیلا کر بیان کریں۔ وہ پروردگار جس نے بندوں کو غم خواری کا حکم دیا،وہ خود بھی اپنے بندوں کی غم خواری فرمائے گا۔
رمضان المبارک میں نیکی کا اجر ذیادہ کردیا جاتا ہے۔چنانچہ اگر کوئی ایک فرض عمل کرے تو ستر فرض پر عمل کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے، نفلی عمل کرے تو غیر رمضان میں گویا فرض پر عمل کرنے کے برابر ثواب ملتاہے۔اور حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل ؑ کو بھیجتے ہیں، فرماتے ہیں کہ جاؤ سر کش شیاطین کو قید کردو تاکہ وہ میرے محبوب کی اُمت کے روزہ داروں کے روزوں کو خراب نہ کرسکے،تو گویا بڑے بڑے شیا طین تو قید ہوگئے اور اُن کو سمندر میں باندھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔اب اگر نیکی کے راستہ میں کوئی رکاؤٹ ہے تو یا تو وہ چھوٹے چھوٹے شیطان ہیں جن کو شتو نگڑ کہتے ہیں یا تو پھر ہمارا اپنا نفس ہے۔ اسیلئے رمضان المبارک میں عام طور سے انسان کو نیکی میں آسانی ہوتی ہے،اگر کسی کو رکاؤٹ پیش آئے تو وہ سمجھ لیں کہ میرا اپنا نفس اتنا خراب ہوچکا ہے کہ اب شیطان کے بہکانے کی ضرورت ہی نہیں،میرا نفس ہی مجھے سست کردیتا ہے،نیکی سے محروم کردیتا ہے۔
رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اللہ اپنے بندوں کی مغفرت کیلئے مختلف مواقع فراہم کرتے ہیں۔حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جو بندہ روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں،فرشتے بھی دعا کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو،تو جب پروردگار نے اپنے مخلوق کو دعا مانگنے پر لگادیا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی مغفرت کرنا چاہتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.