آپریشن اورآپشن (محمد ناصراقبال خان)

0

باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا، "میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹ جانے سے اللہ ربّ العزت کوپہچانا "،لیکن بدقسمتی سے امریکا بار بار اپنے ناپاک ارادوں کے ٹو ٹنے اورخفت اٹھانے کے باوجود قادروکارساز اورقوی معبود برحق کی قدرت کوشناخت اوراس کی اطاعت کرنے میں ناکام رہا۔ایک طرف مشرک اپنے حواریوں سمیت زمین پراِسلام اوراہل اِسلام کیخلاف سازش وشورش کرتے اوراپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے جال بچھاتے ہیں تودوسری طرف رحمن ورحیم اللہ عزوجل ا نہیں ناکام ونامرادکرنے کیلئے اپنی قدرت سے ایک موثرمنصوبہ بناتا ہے اوریوں کافروں کے منفی منصوبے دھرے رہ جاتے ہیں۔جہاں معبود برحق کا "کن ” فرمانا کافی ہووہاں ہرعہد کے ہزاروں شداد، نمرود،ملعون فرعون،ابوجہل اورپلیدیذیدبھی دین الٰہی کیخلاف سرگرم ہوں توان کی کوئی وقعت اوران کے بازوؤں میں طاقت یا مزاحمت نہیں رہ جاتی۔وہ لوگ جوزمین پرناخدابنے بیٹھے اورخداؤں کی طرح فیصلے کرتے ہیں وہ یادرکھیں اللہ تعالیٰ ہر عہد کے فرعون،یذیداورنمرود کونابود کرنے پرقادر ہے۔پلید یذیدبڑی فوج کے باوجود فناہو گیا جبکہ اس کے مدمقابل شہزادہ کونین امام حسین علیہ السلام جام شہادت نوش کرنے کے باوجود آج بھی نیک نام،کامیاب وکامران اور زندہ وجاوید ہیں، یذیدیت کسی بھی روپ میں آجائے وہ قیامت تک حسینیت ؑ پر غلبہ نہیں پاسکتی۔یذیدی بربریت کیخلاف مزاحمت کارسیّدنا امام حسین علیہ السلام کی شجاعت اورشہادت کوکسی عہد کاانسان فراموش نہیں کرسکتا۔ اِسلامیت اوراِنسانیت کی بقاء کیلئے فلسفہ حسینیت ؑ نے جوکلیدی کرداراداکیا وہ” اشک” نہیں ” رشک” کامتقاضی ہے۔امام حسین علیہ السلام کے سچے پیروکارکسی عہد کے یذید کی بیعت نہیں کرسکتے۔جہاد اوراجتہاد مسلمانوں کاطرہ ّ امتیاز ہے،افغانستان سمیت جہاں مسلمانوں میں جذبہ جہاد اورشوق شہادت زندہ ہے وہاں دنیاکا کوئی کافر ملک انہیں مغلوب نہیں کرسکتا۔ کوئی سچامسلمان دین فطرت اِسلام کے معاملے میں مصلحت پسند نہیں ہوسکتا۔دنیا کی محبت اورسودوزیاں سے بے نیاز”جہادی” اپنے مدمقابل آنیوالے کسی "فسادی” گروہ کی تعداد یااستعداد سے ہرگز مرعوب نہیں ہوتے بلکہ وہ ان ناسوروں کی "نابودی” تک چین سے نہیں بیٹھتے۔افغان طالبان نے اللہ تعالیٰ کی وحدت وقدرت پرایمان اوراس کی غیبی مدد پر بھرپورایقان جیسی صفات کے بل پر بدمست امریکا کوزیراورڈھیر کردیا۔آپ طالبان کے طرزسیاست پرتنقیدکرسکتے ہیں لیکن ان کے نظریات اوراثرات سے انکار نہیں کرسکتے، ماضی میں بھی افغانستان میں متعدد گروپ ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں لیکن ان میں سے طالبان کے سواکوئی بھی مخصوص نظریہ کے تحت سرگرم اور سربکف نہیں رہا۔طالبان کی کامیاب کاروائیوں کے نتیجہ میں امریکا باامرمجبوری افغانستان سے دستبردارتوہوگیا لیکن وہ خاموش نہیں بیٹھے گا تاہم طالبان کو کابل کی طرف بڑھنے سے روکنا اوروہاں اپنا جھنڈا گاڑنے سے روکنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔

امریکا نے خودساختہ 9/11کے بعدافغانستان میں دندناتے اورافغانوں کوللکارتے ہوئے کیا سوچاتھا اورکیا ہوگیا،اللہ رب العزت کی مشیت سے نیٹوفورس کے ارادے اورہزاروں اہلکار خاک میں جا ملے جبکہ امریکا اوراس کے اتحادیوں کاغرورچکناچورہوگیا۔امریکا جس طرح ویتنام میں بری طرح ناکام اوربدنام ہوا اس طرح توروس بھی افغانستان میں رسوانہیں ہواتھاتاہم امریکا نے ویتنام کے ساتھ تصادم میں اپنے شرمناک انجام سے کچھ نہیں سیکھا۔امریکا کے حکمرانوں کاافغانستان کوعراق،لیبیا اورشام سمجھنا بہت بڑی غلطی بلکہ مجرمانہ غفلت تھی،امریکا کے اہلکار تو فوج سے وابستہ ہونے کے بعددوران تربیت اسلحہ کااستعمال سیکھتے ہیں جبکہ افغان تو”بچپن "سے "پچپن” تک اسلحہ اوراپنے دشمنوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔وہ توموت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال اورخطروں کاہاتھ تھام کر جوا ن ہوتے ہیں۔جہاں موت افغانوں کونہیں ڈرا سکتی وہاں امریکا کس کھیت کی مولی ہے۔لگتا ہے افغانستان روانہ ہوتے وقت امریکیوں کے تصور میں ان کے اداکارجان ریمبو کی ایک فلم تھی جس میں اسے افغانستان میں روس کی فوج کیخلاف بھرپورایکشن اوران کی قید سے اپنے فوجی آفیسر کوچھڑانے کاکامیاب آپریشن کرتے ہوئے دیکھایاگیا تھالیکن فلم اور حقیقت میں بہت فرق ہے لہٰذاء افغان طالبان نے افغانستان کونیٹوفورس کیلئے قبرستان بنادیا جس کے بعد امریکا کیلئے وہاں جاری "آپریشن” بندکرکے راہ فراراختیارکرناواحد”آپشن "رہ گیا تھا۔مجھے نہیں لگتا امریکا اوراس کے اتحادی افغانستان میں اپنی رسوائی اورپسپائی سے کچھ سیکھیں گے۔امریکا کی غلطیاں اس کاشیرزاہ بکھیردیں گی اوروہ بھی روس کی طرح قصہ ماضی بن جائے گا۔امریکا کے صدرجوبائیڈن اپنے پیشروصدور کی طرح دوسروں کوجمہوریت کادرس دینے اوران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی بجائے اپنے داخلی مسائل پرفوکس کریں،اگروہ پاکستان کواپنادوست نہیں بناسکتے تودشمن بنانے کی غلطی ہرگز نہ کریں کیونکہ باباجی حضرت ابو انیس صوفی محمدبرکت علی ؒ لودھیانوی نے فرمایا تھا،”ایک وقت آئے گاجب دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہاں اورناں سے مشروط ہوں گے "، میں سمجھتا ہوں وہ وقت آگیا ہے۔سی پیک کی تکمیل سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھ جبکہ پاک چین دوستی مزید پائیدار،جاندار اورشاندارہوجائے گی۔سی پیک کے دشمن چند ملک ایک مدت سے پاکستان اورچین کے درمیان "دراڑ” اور”بگاڑ "کیلئے گھات لگائے بیٹھے ہیں لیکن وہ ناکام ونامرادہوں گے۔پاک چین دوستی کا”رشتہ” دونوں کی تعمیروترقی اورمضبوطی کا”رستہ” ہے۔پاکستان میں سنجیدہ اورفہمیدہ سیاستدان سینیٹر مشاہدحسین سیّد،تعمیری سیاست کے حامی اورممتازقانون دان سینیٹر کامل علی آغا،سیاست اورصحافت سے وابستہ پاکستانیوں کے ہردلعزیزشعیب بن عزیز،ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی صدراور منفرداسلوب کے مقبول کالم نگارمظہر برلاس، ماہرمعدنیات اورماہرسیاسیات میاں محمدسعیدکھوکھر اورسلک روٹ کے اعزازی سفیر اورنفیس انسان عامر علی عامر پاک چین دوستی کے علمبردار ہیں،ان مخلص حضرات نے اپنے اپنے مخصوص انداز سے پاکستان اورچین کے درمیان پل کاکرداراداکیا ہے۔پاکستان اورچین فطری دوستی کی بنیادپرایک دوسرے کاہاتھ تھام کرآگے بڑھ رہے ہیں،شیطانی ٹرائیکا سمیت دنیاکی کوئی طاقت ان کاراستہ نہیں روک سکتی۔اگربھارت کی سیاسی اوردفاعی قیادت میں ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہوتی تووہ” سی پیک” کو”رول بیک” کرنے کیلئے اپنا  "زر”اور”زور”لگانے کی بجائے اس سے مستفیدہونے کافیصلہ جبکہ اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر پرپاکستان کا فطری حق تسلیم کرتے۔سات سمندر پار امریکا سے دوستی کیلئے پاکستان اورچین سے ہمسایوں کے ساتھ دشمنی کاخمیازہ بھارت کی آنیوالی نسلیں بھگتیں گی۔ وہ امریکا جوافغانستان میں اپنی اوراپنے اتحادیوں کی مددکرنے میں ناکام رہا وہ بھارت کیلئے بھی کچھ نہیں کرسکتا۔

9/11کے بعدنام نہادسپرپاورامریکا جس گھمنڈ،سٹنٹ اور” زعم” کے ساتھ افغانستان میں گھسا تھا وہاں اسے نڈر افغانوں نے جوگہرا”زخم” دیا وہ کبھی نہیں بھرسکتا، دشمن کاوجود بڑا ہوتواسے زخم لگانا آسان ہوجاتا ہے۔افغان طالبان کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعدامریکا کیلئے چین کیخلاف مہم جوئی سے” گریز”مزید”ناگزیر” ہوگیاہے۔امریکا کی منتخب اوردفاعی قیادت چین کی کامیابیوں سے حسد اوراسے خوامخواہ انتقام کانشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے فوری طورپر اپنی معاشی ودفاعی ترجیحات تبدیل کرے۔دوراندیش چینی قیادت اورانتھک قوم نے جس انداز سے چنددہائیوں میں معاشی انقلاب برپاکیا وہ” تنقید”نہیں "تقلید "کے قابل ہے۔امریکا کومعاشی ا ستحکام کیلئے مہلک” ہتھیاروں ” نہیں بلکہ "اوزاروں ” پرانحصار کرناہوگا۔امریکا دوسرے ملکوں کے وسائل کومیلی آنکھ سے دیکھنے اوران کااستحصال کرنے کی بجائے اپنی توانائیاں اقتصادی ترقی کیلئے استعمال کرے۔امریکاکے ارباب اقتدارواختیار یادرکھیں ان کی” خطاؤں ” کی فہرست جس قدرطویل ہے،”سزاؤں ” کاسلسلہ بھی اس قدردراز ہوگا۔تعجب ہے امریکا نے اپنے دیرینہ دشمن روس کاافغان قوم کے ہاتھوں انجام کس طرح فراموش کردیا۔روس کی طرح امریکا نے بھی افغانوں کوانڈراسٹیمیٹ کیاتھا لہٰذاء روس کی طرح ہزیمت امریکا کامقدربن گئی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا تھا،”جوزمین پر بیٹھتا ہے اُسے گرنے کاڈرنہیں ہوتا”کیونکہ دنیا میں کسی عروج کودوام نہیں بلکہ ہرعروج کازوال اٹل ہے۔افغانستان سے امریکا کے” خروج” سے اس کا” عروج” سوالیہ نشان بن گیا ہے۔افغانستان کے غیورعوام زمین پربیٹھنے،”سادگی” میں ” آسودگی” تلاش اور جام شہادت نوش کرنیوالے غیرتمند لوگ ہیں۔ان کی کوئی دنیاوی کمزور ی نہیں جس کاروس یاامریکا فائدہ اٹھاتے لہٰذاء جس طرح افغانستان میں ملی شکست روس کی شکست وریخت کاسبب بن گئی تھی اس طرح اب طالبان کے ہاتھوں امریکا کی شرمناک شکست اس کاشیرازہ بکھیردے گی۔دشمن فوج کو ہرایا جاسکتا ہے لیکن جہاں قوم مدمقابل ہووہاں جارحیت کرنیوالی ریاست کودنیا کی کوئی طاقت شکست سے نہیں بچاسکتی،افغانستان میں امریکا اوراس کی اتحادی نیٹو فورسز کامقابلہ کسی فوج نہیں بلکہ افغان قوم کے ساتھ تھا۔یقینا افغان ایک دوسرے کیلئے جارحانہ مزاج رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی سرزمین پرکسی بیرونی دشمن کاحملہ اورغلبہ برداشت نہیں کرتے۔امریکا، اسرائیل اورانڈیا عہدحاضر کے یذید ہیں اورپلید یذیدکی طرح کوئی قاتل ہزاروں بیگناہ انسانوں کوناحق قتل کرنے کے باوجودجیت نہیں سکتا۔یہ شیطانی تکون پاکستان اورچین سے ان کا روشن مستقبل اورسکھ چین نہیں چھین سکتی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.