حضرت پیرباباؒ اورشیخ الاسلام اخونددرویزہؒ پر الزامات اور حقائق (تیسری قسط) حافظ مومن خان عثمانی

0

لیکن اس کے بعد موصوف ایک سوالیہ نشان چھوڑ تے ہیں کہ ”لیکن ایک الجھن ابھی تک حل نہیں ہوئی کہ بایزید کے بیٹے جلالہ کو پکڑکر اخونددرویزہ بابا نے مغل حکمران جلا ل الدین اکبر کے سامنے کیوں پیش کیا؟جواب:پہلی بات تو یہ ہے کہ بایزید اُرمڑی یاتو توراغہ کی لڑائی میں ننگرہار کے حکمران محسن خان کے ہاتھوں جنگ میں مارا گیا ہے یا اس لڑائی میں بھاگنے کے بعد تیراہ میں اپنی موت آپ مرا ہے،یعنی اخونددرویزہ ؒنے اسے قتل نہیں کیا بلکہ یاتو محسن خان نے اسے قتل کیا اوریا اللہ تعالیٰ نے اُسے مارا ہے،یہ توتاریخی حقائق سے اعتراض کرنے والوں کی جہالت ونادانی کاواضح ثبوت ہے،دوسری بات یہ کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اخوند درویزہ باباؒنے جلا ل الدین عرف جلالہ کو جلال الدین اکبرکے حوالے کیاہے…..؟حضرت پیرباباؒ کی وفات کے بعداخونددرویزہؒ اور پیرتاریک کے جانشینوں کے درمیان تین خونریز معرکے ہوئے ہیں جن کے بارہ میں مورخین لکھتے ہیں: تیسرا اور آخری فیصلہ کن معرکہ دریائے سندھ کے کنارے ٹوپی کے قریب باڑہ قتول کے مقام پر پیش آیا جس میں حمزہ خان اکوزئی (یوسف زئی)کو فتح کامل نصیب ہوئی (اس لڑائی میں اخوند درویزہ باباؒ بذاتِ خودبھی موجودتھے مگر کمان حضرت اخوند باباؒکے مریدحمزہ خانؒ کے پاس تھی،بایزید اُرمڑی کا بڑابیٹا)شیخ عمر اور اس کا بھائی خیرالدین اس لڑائی میں مارے گئے نورالدین محمدزئی کے پاس پناہ کاطالب ہوا،لیکن کسی نے موقع پاکر اسے موت کے گھاٹ اتاردیا،بایزید کے پیروکا روں نے قبر سے اس کی ہڈیاں نکال کر ایک تابوت میں رکھی تھیں اورہر وقت اس تابوت کو (بنی اسرائیل کے تابوت سکینہ کی طرح برکت کے لئے)ساتھ لئے پھرتے تھے،لیکن اس جنگ کے بعد جب (برکتوں کا نزول نظر نہ آیااور)انہوں نے اپنے آپ کو بے یارومددگار دیکھا توتابوت کوتوڑ کر اس کی لاش کو دریائے سندھ کی لہروں کی نذرکردیا۔بایزید کے باقی بیٹے تو لڑائی میں کام آئے مگر سب سے چھوٹا بیٹا جلا ل الدین عرف جلالہ بچ رہا،کہاجاتا ہے کہ یوسف زئی سے جنگ کے بعد وہ زخمی ہوکر دریائے سندھ میں کود گیا مشکیزے پر دریاپارکرنے کے بعد قبیلہ امان زئی سے پناہ کا طالب ہوا،چونکہ وہ نہایت ہی شکیل ووجیہ(انتہائی خوبصورت)تھا اس لئے لوگوں نے اسے قتل کرنے سے دریغ کیا البتہ سے گرفتار کرکے قلعہ اٹک میں شہنشاہ اکبر کے سامنے پیش کردیا،شہنشاہ اکبر بھی اس کی مسحورکن شخصیت سے بڑامتاثرہوا اور اس کے ساتھ عزت واحترام سے پیش آیا اور اس کو اپنے ساتھ دہلی لے گیاتاہم موقع پاکر جلال الدین قید سے بھاگ نکلا اور تیراہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ بایزید اُرمڑی کے سب بڑے طرفدار اورحمایتی روشن خان روشن اپنی کتاب یوسف زئی قوم کی سرگزشت میں رقم طراز ہیں:موضع باڑہ پر جو ٹوپی سے کوئی دومیل کے فاصلے پر ہوگا آخری جنگ لڑی گئی اور یہی فیصلہ کن جنگ تھی۔جس نے اس علاقہ سے تحریک روشنائی کاہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا تھا،بایزیدکے چار لڑکے اس اس جنگ میں شریک بتائے جاتے ہیں اس جنگ میں زیادہ تر حصہ قبیلہ یوسف زئی کی ذیلی شاخ اباخیل سولیزئی نے لیا جن کی قیادت ملک حمزہ خان کررہے تھے،جب روشنائیوں کو شکست ہوئی توبایزید کے بڑے لڑکے شیخ عمر کو قتل کرکے اس کی لاش کو جلادیاگیا،خیرالدین ایک ساتھی سمیت دریائے سندھ میں کود کر تربیلہ کے راستے ہزارہ جاپہنچا لیکن ان کا ستارہ غروب ہورہاتھا یہ دونوں قتل کردئے گئے،تیسرے نور الدین نے بھاگ کر ہشت نگر(چارسدہ)کی راہ لی تووہاں مخالفین کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گیا،چوتھا نوعمرجلال الدین المعروف جلالہ جنگ میں زخمی ہونے کے بعد دریائے سندھ میں کود گیا تھا لیکن ایک میل جانے کے بعد مخالفین کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا اس کی عمر اس وقت اندازاً چودہ برس بیان کی جاتی ہے اور عام خیال یہی ہے کہ وہ نوجوانی اور خوبصورتی کی وجہ سے قتل نہیں ہوا اور قیدی کی حیثیت سے اکبر اعظم کے سامنے پیش کیا گیا۔بایزید کی لاش کو ایک تابوت میں اس کے لڑکے مریدین یاپیرو کاراپنے ساتھ لئے پھرتے تھے اس جنگ میں وہ بھی مخالفین کے ہاتھ لگا اور بایزید کے خاندان کی عورتیں بھی قیدی کی حیثیت سے نظر آنے لگیں،کہاجاتا ہے کہ اخوند درویزہ کی ہدایت سے اس کی لاش کونذرآتش کرتے ہوئے راکھ دریائے سند ھ میں پھینک دی گئی،اور بایزید کی اہلیہ ایک دوم(میراثی) کے حوالے کردی گئی،جلالہ کے گرفتار ہونے پر خود یوسف زئیوں کے ہاتھوں اکبر کے سامنے پیش کئے جانے اور اخوند درویزہ کے اس موقع پر بایزیدکی لاش کو نذرآتش کرنے کے حکم پر غورکرنے سے پتہ چل سکتا ہے کہ اس وقت ہوا کارخ کس طرف تھا اور مغل کس حدتک پٹھانوں میں مذہب کے نام پر مخالف پیداکرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔(ص ۸۹۴) یہی روشن خان دوسری کتاب تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ ۹۸۹ھ (۱۸۵۱ء)میں جب شہنشاہ اکبر کابل سے اٹک آیا تو تو اس وقت اس نے یہ لڑکا جلال الدین جوچودہ برس کاتھا مخالفین سے درخواست کرکے لے لیا،بادشاہ کو اس وقت اس بات کی ضرورت تھی کہ روشنائیوں میں سے کسی کو یوسف زئیوں کا دشمن بنائے (ص۹۹۲)جبکہ حضرت اخونددرویزہ بابا کے بیان مطابق جب پیرتاریک کی ہڈیوں کو جلاکر دریابرد کیا جارہاتھا تووہ خود اس وقت وہاں موجود نہیں تھے بعد میں ایک شخص نے انہیں یہ واقعہ بیان کیا کہ اس کاسرابھی جلانہیں تھا کہ میں نے ایک بڑے پتھرسے اس کا سرٹکڑے ٹکڑے کردیااور پھر اس کو دریا میں پھینک دیا گیا،شیخ عمر کی لاش کو جلانے کافسانہ بھی مورخین کا خودساختہ بلکہ فقط زیب داستان کو بڑھانے کے لئے گھڑاگیا ہے کیونکہ حضرت اخونددرویزہ کی تحریرکے مطابق وہ بھاگتے ہوئے دریائے سندھ پار کرگیا تھا اورتربیلہ ہزارہ میں کسی کے ہاتھوں قتل ہواگیاتھا اور اس کی قبر ہزارہ میں ہے۔دوسرااعتراض:اگر اخونددرویزہ کو اسلام سے اتنی ہمدردی تھی تو پھر انہوں نے اکبر اعظم کے ”دین الٰہی“ کے خلاف ایساجہاد کیوں نہیں کیا جس طرح بایزید انصاری اور اس کے بیٹوں کے خلاف کیاگیا؟جواب:جلال الدین اکبر کے دین اکبری کے خلاف حضرت اخوند درویزہ کی تحریر رات موجود ہیں جن میں انہوں نے اکبر کے دین الٰہی کی کھل کر مخالفت کی ہے،دہلی جاکر اس کے خلاف جہاد کیوں نہیں کیا تو اس کاجواب یہ ہے وہاں مجددالف ثانی موجود تھے جو اس فرض کو نبھارہے تھے،حضرت اخونددرویزہ بایزید انصاری کے فتنے کو بھی اسی طرح کا ایک خوفناک فتنہ بلکہ پیرتاریک کی طرف سے دعویئ نبوت کی بناپر اس فتنے کو مسلمانوں کے ایمان پرخطرناک ڈاکہ تصور کررہے تھے، اس لئے اس کے خلاف جہاد کواپنے لئے زیادہ اہم اورضروری سمجھ رہے تھے،وہاں حضرت مجددالف ثانی کی طرح علماء حق موجود تھے لیکن یہاں اور کوئی ایسا مجاہد موجود نہ تھا جو اس فتنہ کا قلع قمع کرتا اس لئے انہوں نے اس کے خلاف جہاد زیادہ پسندکیا۔ظفر کاکاخیل اپنی کتاب ”پختون دے تاریخ پہ رانڑاں کے“میں لکھتے ہیں:اخونددرویزہ جب بایزید کے ساتھ مناظروں میں فتح حاصل نہ کرسکے تو انہوں نے مذہب کی حفاظت کے نام پر کابل کی مغل حکومت سے مددمانگی،چنانچہ اس کے بعد مغل حکمران محسن خان اور بایزید کے درمیان لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔(ص ۸۳۵)حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیرتاریک بایزیدانصاری چوتھے مناظرے میں اخونددرویزہؒ کے سامنے آنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے اور بھاگ کر تیراہ میں پہنچ گئے،کیا دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ فاتح بھاگ کر راہِ فرار اختیار کرچکاہو،بھاگتاتو وہی ہے جس کو شکست ہوتی ہے،جب پیرتاریک مناظروں میں اخونددرویزہ کو شکست دے چکا تھا تو پھر اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟بھاگنا تو اخوند درویزہ کو ہونا چاہئے تھا کیونکہ شکست انہیں ہوئی تھی۔لیکن موصوف نے جھوٹ بھی ایسا لکھا ہے جس پاؤں تو کیا نام ونشان بھی نہیں ہے۔حضرت اخونددرویزہ جس دین کی حفاظت کے لئے لڑرہے تھے،اس دین کا خدا ان کی مددکے لئے کافی تھا انہیں دنیا کے حکمرانوں سے مددلینے کی کیا ضرورت تھی،کاش!موصوف اپنے دعوے پر کوئی دلیل بھی پیش کرچکے ہوتے،لیکن تب پیش کرتے جب کوئی دلیل ہوتی،مغل حکمران سے مددمانگناقوم پرست،دین بیزار،اسلام دشمن،علماء دین سے خار کھانے والے لکھاریوں کا خودساختہ من گھڑت اورجھوٹا افسانہ ہے جس کے ذریعے حضرت اخونددرویزہ جیسی شخصیت کو بدنام کرنے کے سوا اور کوئی مقصد ہی نہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.