انضمام کے وقت دیگر وعدوں کے ساتھ ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بارڈرز کھول دیے جائیں گے۔ سیداخونذاداہ چٹان

0

بارڈر کے دونوں  اطراف لوگوں کا آپس میں رشتہ داریاں ہیں جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملنا ضروری ہے۔باجوڑکے لوگ پسماندہ اور غریب ہے اگر باڈر کھول دیاجائے تو ان لوگوں کو افغانستان سے تجارت کرنے کے لئے راستے میسر ہونگے جس سے ان کی پسماندگی کسی حد تک دوہوسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابقہ ایم این سنئیر صوبائی نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سیداخونذادہ چٹان  نے باجوڑ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اب علاقے میں امن آیاہے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملکی و غیرملکی تجارت کو وسعت دیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ باجوڑ کے جو راستے افغانستان سے ملےہوئے ہیں لیٹئی پاس ، نواپاس ، غاخے پاس ودیگر راستے عوام الناس کے لئے کھول دیاجائے اور تجارت کے مواقع پیدا کیاجائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.