رمضان المبارک اور ذخیرہ اندوزی (مولانامجاہد خان ترنگزئی)

0

رمضان المبارک لوگوں کے ساتھ ہمدردی وغمخواری اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا مہینہ ہے،اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے اور ہر طرف سے اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کی برسات ہوتی ہے۔ لوگ اس مہینہ میں جہاں اپنے بارے میں اچھائی کی فکر کرتے ہیں وہیں اپنے اہل خاندان اور اپنے ماتحتوں،غریبوں،محتاجوں،مسکینوں کے بارے میں بھی اچھی سوچ رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ اللہ کی رحمت سے دور اور بد قسمت لوگ اس مہینہ میں بھی اس برکات اور ثمرات سے محروم رہتے ہیں،اور وہ ہے ذخیرہ اندوز۔ جیسے ہی اس عظمت والے مہینہ کی آمد قریب ہوتی ہے تو اشیاء خوردنوش کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ لوٹ مار کا بازار گرم کردیا جاتا ہے۔منافع خور مختلف قسم کی اشیاء کی قیمتوں میں تین گنا سے زائد اضافہ کرکے رحمتوں کے مہینے کا استقبال کرتے ہیں۔

اسلام میں ذخیرہ اندوزی کے لئے احتکار کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔احتکار لغت میں گراں فروشی کی نیت سے غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے کو کہتے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں احتکار کا مفہوم ہے ہر ایسی چیز کو مہنگا بیچنے کے لئے روک رکھنا جو انسان یا حیوان کی غذائی ضرورت میں کام آتی ہو۔مثلاًگراں بازاری کے زمانے میں جب لوگوں کو غلہ وغیرہ کی ذیادہ ضرورت ہو،کوئی شخص غلہ خرید کہ اس نیت سے اپنے پاس روک رکھے کہ جب اور ذیادہ گرانی ہوگی تو اسے بیچوں گا یہ احتکار کہلاتا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ”تاجر کو رزق دیا جاتا ہے اور احتکار کرنے والا ملعون ہے۔“ مطلب یہ کہ جو شخص کہیں باہر سے شہر میں غلہ وغیرہ لاتا ہے کہ اسے موجود ہ اور رائج نرخ پر  فروخت کرے اور گراں فروشی کی نیت سے اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے،اسے اللہ تعالیٰ کی طرف رزق دیا جاتا ہے او رزق میں برکت بھی عطاکردی جاتی ہے۔اس کے خلاف اللہ کے مخلوق کی پر یشانیوں اور غذائی قلت سے فائدہ اُٹھا کر غلہ وغیرہ کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے وال گنہگار ہوتا ہے اور خیر وبرکت سے محرم رہتا ہے جب تک کہ وہ اس لعنت میں مبتلا رہتا ہے۔

حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریمﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاں فروخت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جذام وافلاس میں مبتلا کردیتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے بندوں اور خصوصاً مسلمانوں کو تکلیف ونقصان میں ڈالتے ہیں،اللہ تعالیٰ اسے جسمانی ومالی بلاؤں میں مبتلا کرتا ہے اور جو شخص انہیں نفع وفائدہ پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے جسم ومال میں خیر وبرکت عطافرماتے ہے۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے چالیس دن تک گرانی کے خیال سے غلہ روک رکھا گویا وہ اللہ سے بیزار ہوا اوراللہ اس سے بیزار ہوا۔اور حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا جس شخص نے گراں فروشی کی نیت سے غلہ کو چالیس روز تک روکے رکھا اور پھراسے اللہ کی راہ خیرات کردیا تو وہ بھی اس کے لیے کفارہ نہیں ہوگا۔یہ گویا اس شخص کے لئے وعید وسزا ہے جو چالیس دن تک گراں فروشی کی نیت سے غلہ کو روکے رکھے کہ نہ تو اسے بازار میں لاکربھیجے اور نہ اس کے ذریعہ اللہ کی مخلوق کی غذائی ضروریات کو پورا کرے۔

مفتیان کرام نے ذخیرہ اندوزی کا حکم یوں بیان فرمایا ہیں کہ ایسی ذخیرہ اندوزی جس سے معاشرہ کے افراد تکلیف میں آجاتے ہیں۔دام مصنوعی طور پر بڑھا دیئے جاتے ہیں یادام بڑھنے کی صورت میں ان اشیاء کی فروخت بند کردی جاتی ہے۔حالانکہ لوگ طلب میں لگے ہوئے ہوتے ہیں جیسا کہ آج کل چینی،آٹا،پیڑول وغیرہ سے متعلق کیا جاتا ہے۔ اسلام میں ایسی ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے،احادیث میں ا س  پر بہت سخت وعید یں آئی ہیں جو اُوپر ذکر ہوئیں۔ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے، سورۃ المطففین اسی کے متعلق نازل ہوتی ہے۔ حضرت شعیب ؑ کی قوم شرک کے ساتھ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ عیب بتائے بغیر عیب دار مال فروخت کرنا، جھوٹی قسم کھا کر مال فروخت کرنا،عمدہ چیز بتاکر گھٹیا دینا، پرانی اشیاء کو نئے کے ساتھ بتائے بغیر فروخت کرنا، جن اشیاء کی مدت ختم ہوچکی ہو، تاریخ ہٹاکر فروخت کرنا، چونکہ یہ تمام اُمور دھوکہ اور فریب ہیں۔ اسلئیے ناجائز ہے۔ 

اسلیئے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرنا چاہیئے اور خود کو ذخیرہ اندوزی سے بچانا چاہیے ورنہ ناجائز طریقے پر کمائی ہوئی دولت واپس آپ اور آپ کے اہل خانہ کے دواؤں پر خرچ ہوگی۔ حکومت اور انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ گراں فروشوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور بھاری جرمانے اس پر عائد کریں تاکہ اس مبارک مہینہ میں اہل  ایمان کو مشقت نہ اُٹھانی پڑیں۔یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ 

خیبر پختونخوا حکومت نے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے  پچھلے سال آرڈیننس نافذ کردیا تھا۔ جس کے تحت

آرڈیننس کے تحت اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جاسکے گا۔

قانون کی خلاف ورزی پر 3 سال قید اور ذخیرہ شدہ مال کے 50فیصد کے برابر جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ضبط شدہ اشیاء کو نیلام کیا جاسکے گا۔

ذخیرہ اندوزی کی اطلاع دینے والے کو ذخیرہ شدہ مال کا 10فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔ اس سال بھی حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ان لالچ و حرص کے دلدادہ لوگوں کو لگام لگایا جا سکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.