قربانی کا متبادل مالی صدقہ نہیں(مولانا مجاہد خان ترنگزئی)

0

دور جدید کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ مغرب سے متاثر ذہنی غلامی کا شکار ایک مخصوص طبقہ دین اسلام کے یقینی طور پر ثابت شدہ احکام وشعائر کو مسلمانوں کی مادی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھ کر ان میں ردوبدل کے درپے رہتا ہے اور جہاں اس سے بھی کام نہیں بنتا دیکھتا تو سرے سے انکار کر بیٹھتا ہے، یوں اُمت مسلمہ کے خیر خواہی اور اصلاح کے پردوں میں الحاد کا بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اور ناسمجھ عوام اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں اس جدید تعلیم یافتہ مغرب زدہ طبقہ، جو سرے سے دین کے مبادیات سے ہی جاہل ہے، کی بے سروپاباتوں پر کان دھرنے کی بجائے مستند علماء کرام سے مضبوط تعلق قائم کریں اور احکام اسلام کے بارے میں ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ یہ انہی کا منصب ہے۔
قربانی کے حوالے سے بھی اس مغرب زدہ طبقے کے کچھ گمراہ کن نظریات ہیں، جس پر دین اسلام کے احکام سے ناواقف جدید تعلیم یافتہ لوگ اور عوام الناس کو دھوکہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جانور کی قربانی صرف حاجی حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں کرسکتا ہے،اس کے علاوہ اس کی دوسری کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہر سال عید الاضحی کے موقع پر فریضہ حج کی ادئیگی کے بغیر جو دنیا کے مختلف حصوں میں کرتے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، بلکہ بدعت ہے۔ اسی طرح اِن میں بعض کا کہنا ہے کہ مسلمان ایام عید میں اس کی بجائے اگر یہی روپے نادار افراد پر صرف کریں یا رفاہ عامہ کے کاموں میں لگائیں تو کتنا نفع ہوگا؟ اور آج کل تو کورونا وباء کی صورتحال چل رہی ہے تو بعض لوگ اس وباء کے حالات کو بنیاد بناکر قربانی کے بجائے مالی صدقہ کی بات کرتے ہیں۔
اِن روشن خیالوں کے تاریک خیالات ونظریات کو اب ہم شریعت کی روشنی میں پر کھتے ہیں۔ پہلی بات کہ قربانی ایک مستقل واجب عبادت بلکہ شعائر اسلام میں سے ہے، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی۔ حضرا ت صحابہ کرام ؓ نے تابعین وتبع تابعین اور آئمہ مجہتدین واسلاف رحمہم اللہ، الغرض پوری اُمت کا متوارث ومسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے۔ آج تک ان میں سے کسی نے نہ اسے حج اور مکہ معظمہ کے ساتھ خاص سمجھا ہے اور نہ صدقہ وخیرات کو اس کے قائم مقام سمجھا ہے۔ قربانی کے بارے میں جتنی آیات واحادیث ہیں وہ سب جانوروں کو خون بہانے سے متعلق ہیں، نہ کہ صدقہ وخیرات سے متعلق۔ نیز ان میں حج اور مکہ معظمہ کی کوئی تخصیص نہیں۔ بطور نمونہ چند آیات واھادیث ملاحظہ ہوں: سورۃ حج آیت نمبر 34 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”ہم نے ہر اُمت میں قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپاؤں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطاء فرمائے۔“ امام ابن کیثروامام رازی ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام ادیان ومذاہب میں چلا آرہا ہے۔ دوسری جگہ سورۃ حج آیت نمبر 67 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔”ہم نے ہر اُمت کیلئے ذبح کرنے کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ طریقہ پر ذبح کرتے تھے“۔ اسی طرح سورۃ کوثر آیت نمبر2 میں اللہ فرماتے ہیں۔”سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور (اسی کے نام) قربانی کیجئے۔“ حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔”جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے“۔ اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصہ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے“۔اِن آیات واحادیث سے مندرجہ ذیل اُمور ثابت ہوتے ہیں کہ صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والت یہ رسول اللہ ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا حتیٰ کہ اس کا عید گاہ کے قریب آنا بھی پسند نہ فرمایا۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں 10 سال میں ہر سال قربانی فرمائی، حالانکہ حج آپ ﷺ نے صرف آخری سال فرمایا۔ تو معلوم ہوا کہ قربانی،حج کے ساتھ خاص نہیں ہے اور نہ مکہ معظمہ کے ساتھ، ورنہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں 9 سال قربانی کیوں فرماتے؟
اگلی بات کہ قربانی سے مقصد محض ناداروں کی مدد نہیں جو صدقہ وخیرات سے پوری ہوجائے، بلکہ قربانی میں مقصود جانور کا خون بہانا ہے۔ یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی محض صدقہ وخیرات کرنے سے نہ تو یہ عبادت ادا ہوگی، نہ اس کے مطلوبہ فوائد وثمرات حاصل ہوں گے۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے دور میں غربت وافلاس دور حاضر کی نسبت زیادہ تھا۔ اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو وہ حضرات جانور ذبح کرنے کی بجائے ناداروں کیلئے چندہ جمع کرتے یا اتنی رقم رفاعامہ کے کاموں میں صرف فرماتے۔ قربانی کی بجائے صدقہ وخیرات کامشورہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نادان یہ مشورہ دے کہ آج سے نماز، روزہ کی بجائے اتنا صدقہ وخیرات کردیا جائے، ظاہر ہے کہ اس سے نماز روزہ ، کی عبادت تو ہر گزادا نہ ہوگی بلکہ اسی طرح صدقہ وخیرات سے قربانی کی مستقل عبادت بھی ادا نہ ہوگی۔
قربانی عبادت مقصود ہے اور سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کے اس عظیم الشان عمل کی یادگار جس میں انہوں نے حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کیلئے لٹادیا تھااور ہونہار فرزند اسماعیل ؑ نے بھی بلاچوں وچراحکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ذبح ہونے کیلئے اپنی گردن پیش کردی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر ان کی جگہ دنبے کو فدیہ بنادیا تھا، تو آج اس طریقے پر ذبح کرکے ہی عمل ہوسکتا ہے۔ محض صدقہ وخیرات سے اس عمل کی یاد تازہ نہیں ہوسکتی۔ حافظ ابن کیثر وامام رازی رحمہما اللہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے، اس لیئے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام پر جانور ذبح کریں۔ اس بناء پر جانور ذبح کرتے ہی اس حکم الٰہی کو پورا کیا جاسکتا ہے، صدقہ وخیرات اس کا بدل ہر گز نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ ملحدین کے سازشوں سے دین حق کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کو مستند علماء کرام سے ہی دین حق کی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.