تعلیم کا دُہرا معیا ر تحریر:۔ مومن سید

0 16

ملک کے آئین اور قانون کے رو سے تعلیم ہماری بنیادی ضرورت ہے یعنی حکومت وقت کی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ ملک کے اندر رہنے والے جتنے بھی بچے ہو تے ہیں ۔ان کی بروقت تعلیم و تربیت ان کی ذمہ ہو تی ہے ۔صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر جب پی ٹی ائی کی حکو مت آئی تو انہو ں نے سب سے اولین ترجیح پر تعلیم ہی کو رکھا ۔صوبے کے اندر تعلیم کے معیا ر کو بہتر بنانے کے لئے انہو ں نے تعلیم کے لئے ایک نئی پالیسی بنائی جو ریشنل پالیسیrational policy کے نام سے جانا جا تا ہے ۔اس پالیسی کے رو سے اگر کسی بھی سکول کے اندر طلبا ء کے تعداد اگر پچاس ہے تو اس سکول کے میں ان پچاس بچو ں کو سبق پڑھا نے کے لئے اور سنبھالنے کے لئے ایک استاد کا فی ہو تا ہے ۔اس طرح اگر سکو ل کے میں طلباء کے تعداد اسی 80))ہیں تو اس سکول کے لئے دو اساتذہ درکا ر ہو نگے ۔اگر کسی سکول کے اندر طلبا ء کے تعداد سو 100 سے ذیادہ ہیں تو اس کے لئے تین اسا تذہ ہو ں گے جو ان کو سنبھال سکے ۔
صوبے کے اندر اس پالیسی کو نافذ کرنے کی وجہ سے تعلیم کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہو ئے اور تعلیم کا معیار بہتر ہو ا ۔کیو نکہ ایک طرف اسا تذہ پر پڑھا ئے کا بو جھ نہا یت کم ہو گیا ۔ان کے کلاسز کی تعداد کم ہو گئی۔اب اساتذہ ٹھنڈے دماغ ،تیاری اور بہترین انداز کے ساتھ طلباء کو پڑھاتے ہیں ۔کلا س کے اندر طلبا ء کے تعداد کم ہو نے کی وجہ سے طلباء سے پو چھ سکتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو وقت دے سکتا ہے ۔ان کی کا پی اور ہو م ورک کو چیک کر سکتا ہے ۔تو دوسری طرف اس پا لیسی کے نا فذ ہو نے کے وجہ سے نئے اساتذہ کی انتخا ب کی گنجا ئش پیدا ہو گئی ۔کیو نکہ اس پالیسی کے وجہ سے صوبے کے اندر تقریبا 56000نئے پوسٹ پیدا کئے گئے ۔یعنی اس پالیسی کی تحت تقریبا 56000 اساتذہ صوبے کے اندر بھر تے کر دئیے گئے ۔جس کی وجہ سے بہت سے تعلیم یا فتہ لو گو ں کو روزگا ر مل گئے ۔جس کی وجہ سے وہ معاشرہ پر بو جھ بننے سے بچ گئے ۔تو دوسری طرف اگر دیکھا جا ئے تو فاٹا کے اندر تعلیم کا وہی پرانا معیا ر اور انداز ہے ۔پرائمری سکول وہی دو کمرو ں پر مشتمل ہو تا ہے ۔جس میں ذیادہ تر سکو لو ں کے چار دیو اری بھی نہیں ہو تی ان سکولوں میں چھ سات سو طلبا ء کو پڑھا نے کے لئے دو ہی اساتذہ ہو تے ہیں جو انکو پڑھا تے بھی ہیں اور ان کو سنبھا لتے بھی ہیں ۔جس کے وجہ سے زیا دہ سے زیا دہ ہر کلا س کا دو یا تین کتابیں پڑھائی جاسکتی ہے اوربا قی رہ جا تی ہے ۔جس کی وجہ سے فاٹا کے اندر نظا م تعلیم میں نہ خا طر خواں بہتری آتی ہے اور نہ تو اس سے وہی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جس کی تو قع کی جا تی ہے ۔کیونکہ فا ٹا وفا ق سے ذیا دہ فاصلے پر ہو نے کی وجہ سے وہا ں کے اچھے پا لیسی ہمیں نہیں پہنچ سکتے ہیں تو دوسری طرف صوبے کے قریب ہو نے کی وجہ سے اس کی اچھی پالیسی ہم پر لا گو نہیں کرتے ۔ اس کشمکش کی وجہ سے شروع دن سے فاٹا ہر لحاظ سے پس ماندہ رہ گیا ۔ اس طرح ایک طرف فا ٹا کے بچے کو معیا ری تعلیم سے محروم کیا جا تا ہے تو دوسری طرف دوسرے مسا ئل کے ساتھ ساتھ فا ٹا کے نو جو انو ں کے ساتھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کی تحت ان کے تعلیم یا فتہ نو جو انا ن کے ساتھ اس طرح کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے فا ٹا کے اندر ہر گزرتے دن کے ساتھ رو زگا ر کے مواقع ختم ہو تے جا رہے ہیں ۔ہر سال یو نیو رسٹوں اور کالجو ں سے ٖفاٹا کے لا کھو ں کے تعداد میں طلباء کا ایک کھپت تیا ر ہو تا ہے ۔جس کے اندر ہر ایک فیلڈ کا بندہ ہو تاہے ۔لیکن بدقسمتی سے ان نو جو انو ں کو اپنے متعلق میدا ن میں جا ب نہ ملنے کی وجہ سے وہ یا تو پھر وہ پرائیوٹ سیکٹر کا انتخاب کر تاہے یا تو پھر ملک کے سے باہر روزگار کے لئے چلا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے جس مقصد کے لئے ہما رے کا لجو ں اور یو نیو رسٹوں نے اس کو تیا ر کیا تھا ۔ اس سے وہی کا م نہیں لیا جا تا ہے ۔اس کی صلا حیت بے کا ر ہو جا تاہے اور اخر کا ر ان کو زنگ لگ جا تا ہے جو پھر آہستہ آہستہ اس بندے کو زنگ خود نگلتا ہے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.