الندوۃ لائبریری اسلام آباد کا دورہ اور تاثرات۔ ( مولانا نورالحق)

0

انسان کی تاریخ یہ بات عیاں کرتی ہے کہ جو بھی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہیں اسے کتاب اپنانے کے علاوہ کوئی آسان راستہ میسر نہیں ہوتا ، تاریخ انسانی میں جو بھی کامیاب انسان نے اپنا نام تاریخ میں درج کرکے ہمیں اپنے کارناموں سے باخبر کیا ہے ان سب نے کتاب کو اپنے زندگی کا رفیق خاص بنایاہے، اور جہاں کتب بینی کیجاتی ہے اس مقام کو لائبریری یا کتب خانہ کو کہتے ہیں اور امت مسلمہ میں کتاب اور اس سے استفادہ کی تاریخ بہت پرانی ہے، قرآن کریم جس ماحول میں نازل ہوا تھا وہ امّیوں کا معاشرہ کہلاتا تھا اور قلم کتاب کے ساتھ عام لوگوں کا کچھ زیادہ تعلق نہیں ہوتا تھا مگر قرآن کریم کی پہلی آیات میں ہی قلم، کتاب اور علم کے حوالہ سے بات کی گئی ہے اور یہ ہمارا ابتدائی سبق ہے ، چنانچہ قرآن کریم کو جب کتابی شکل میں لکھا گیا اور باضابطہ طور پر پہلی کتاب وجود میں آئی تو تاریخی روایات کے مطابق اسے خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے عمومی استفادہ کیلئے مسجد نبویؐ کے ایک ستون کے ساتھ رکھوا دیا تھا جسے ’’أسطوانہ مصحف‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔کتاب، لائبریری اور علم کے ساتھ مسلمانوں کا روز اول سے تعلق چلا آرہا ہے جبکہ جس شخصیت کی یاد میں آج ہم ایک نئی لائبریری کا آغاز کر رہے ہیں وہ سر تا پا کتاب کی دنیا کے ہی بزرگ تھے، یہ ہماری تاریخ کا مستقل باب ہے کہ ۱۸۵۷ء کی ہمہ گیر تباہی و بربادی کے بعد بر صغیر میں امت مسلمہ کو علمی و دینی طور پر سہارا دینے میں جن بڑے اداروں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ان میں دیوبند اور ندوۃ العلماء کے نام سرفہرست ہیں، دیوبند نے عقیدہ، حدیث اور فقہ کی حفاظت اور آبیاری کی اور ندوۃ العلماء نے ادب و تاریخ کے ساتھ ملت کا رشتہ قائم رکھا جبکہ ندوہ کے سربراہ کے طور پر مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کا یہ امتیاز ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں ملت اسلامیہ کی فکری راہ نمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیا اور وہ بجا طور پر اپنے دور کے مفکر اسلام تھے، انہوں نے صرف متحدہ ہندوستان میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی زبوں حالی، مشکلات اور مصائب کو موضوع بحث بنایا اور بین الاقوامی حالات و ماحول کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کر کے امت مسلمہ کے بہتر مستقبل کے لئے راہ نمائی کی۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ’’سید ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی اسلام آباد‘‘ کے احباب خصوصاً ہمارے بھائی جعفر بھٹی صاحب حضرت ندویؒ کی تعلیمات و افکار کے فروغ اور ان کی علمی و فکری یاد کو تازہ رکھنے میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔

انہی اسلاف کے تاریخ کو زندہ کرنے اور امت مسلمہ کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے اور امت مسلمہ کو پھر تمام انسانوں کے رہنما بنانے کے لئے مولانا مفتی محمد سعید خان نے الندوۃ لائبریری کے نام سے ایک لائبریری بنائی ہے۔   مولانا   مفتی محمد سعید خان   جو کہ حضرت مولانا سید حامد میاں قدس اللہ العزیز کے تلمیذ   ہیں ۔ اس لائبریر میں  مختلف موضوعات پر کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کیا گیا ہے اور اصحابِ ذوق کے لیے ان سے استفادہ کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ پرائیویٹ سطح پر یقیناًیہ ایک بہت بڑی لائبریری ہے جس سے مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والا کوئی بھی طالب علم خود کو مستغنی قرار نہیں دے سکتا۔ جس میں تقریبا ایک لاکھ کتابیں ہیں اور اتنی ہی کتابوں کی مزید گنجائش ابھی باقی ہے۔الندوہ کمپلیکس  کا کل رقبہ 14 کنال ہے، عمارت پانچ منزلہ ہے، اس عمارت میں بچوں کے لیے مدرسہ اور رہائش کا بندوبست بھی ہے۔ یہاں مطالعہ اور قیام کرنے والوں کے لیے رہائش،کھانا، دھوبی وغیرہ کی سہولیات موجود ہیں۔ پی ایچ ڈی ،ایم فل اسکالرز اور دیگرکتب خانہ سے استفادہ کرنے کے لئے ملک کے طول وعرض  سے تشریف لاتے ہیں۔الندوۃ لائبریری  ایک خوبصورت،آرام دہ اور شاندار لائبریری ہے، اتنی ہی خوبصورتی ظاہری بھی ہے، لائبریری کے عقب میں ایک نہر ہے، ارد گرد بے پناہ سبزہ ہے، بچوں کے لیے جھولے تک ہیں ، اس کے علاوہ چھوٹے بڑے سبزہ زار بھی ہیں ، ایسا پرسکون ماحول ہے جو تصنیف و تالیف اور تحقیق کے لیے آئیڈیل ہے ۔  چونکہ کتاب بینی میں اگر چہ میں بہت کمزور ہوں لیکن دوست و احباب کے حلقے میں کئی ساتھی ایسے ہیں جن کا عادت بہت ہی زبردست ہے مطالعہ اور کتاب بینی میں آج ان ساتھیوں میں صرف ایم فل سکالر مولانا امین اللہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتاہوں ، جنہوں نے ہمیں ایک ایسے عظیم لائبریری کا سیر کروایا جہاں کے سیر کے بعد بلا اختیار مطالعہ اور کتاب بینی  کی طرف میلان فطری ہوتی ہے۔اس دورے سے جہاں اتنے بڑے لائبریری کے بارے میں علم حاصل ہوا وہاں اس بات کا ادراک بھی ہوا کہ کتب بینی و مطالعہ کتب بہت سے مسائل و پریشانیوں سے بچنے کا سبب بن سکتاہے۔ اس سفر میں مولانا امین اللہ کے رہنمائی نے ہمارے علم میں مزید اضافہ کیا مولانا امین اللہ نے ملک کے معروف دینی و تعلیمی ادارہ علومی اسلامی اسلام اباد سے وفاق المدارس العربیہ کے شہادۃ العالمیہ کے ڈگری حاصل کرنے دنیاوی علوم میں نمل یونیورسٹی اسلام آبادسے ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے، موصوف نے اپنا تحقیقی مقالہ اسی لائبریری میں تحریر کیا ہے، مولانا کے قول کے مطابق یہاں پر آپ کو مطالعہ کے لئے ہر قسم سہولیات میسر ہوتے ہیں آپ کے کھانے پینے کے انتظام کے علاوہ اپ کے کپڑوں کی صفائی اپ کو ذرائع ابلاغ کی سہولیت مہیا کرنے مفتی محمد سعید و رفقاء کار کا نصب العین ہے،مولانا امین اللہ کا کہنا ہے کہ ہر وہ ساتھی جو اپنے مطالعہ میں وسعت پیدا کرنے کی خواہش کرتے ہویا کسی تحقیقی کام کا دعوی دار ہو اور ماحول و جگہ میسر نہیں ہو وہ الندوۃ لائبریری میں آکر یہ کام بخوبی انجام دےسکتے ہیں۔  دیکھنے کے بعد میں یہ کہوں گاکہ کتب بینی کے شوق پیدا کرنے کے لئے اس لائبری کا دورہ اور وہاں پر رہ کر مطالعہ کرنا ضروی ہے۔اللہ تعالیٰ اس  لائبریری کو اپنے مقاصد میں کامیابی اور ترقیات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے کی توفیق دیں۔ سفر ہذا میں مولانا امین اللہ کے علاوہ میرے ہم سفر ساتھی مفتی عبیداللہ رحمانی مہتم مدرسۃ العفراء صدیق آباد، ڈاکٹرمحمد شعیب الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد اور بردار لطف اللہ زاہد ایم فل سکالر قائداعظم یونیورسٹی اسلام اباد تھے۔ ہمارا الگ سفر دنیا کے مشہور ترین مقام کھیوڑہ نمک کان کے سیر وسیاحت کرنا تھا جس کے لئے اگلے دن ہم رکاب سفر کو چلے گئے ، کھیوڑہ نمک کان کے سیاحت کی ہماری کہانی اگلے قسط میں ملاحظہ کریں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.