اسلام مخالف بل نامنظور (مولانامجاہد خان ترنگزئی)

0


حکومت نے ایک بل جس کا عنوان ہے”جبری تبدیلی مذہب روکنے کا بل“(Prohibition of Forced Conversion Bill 2021) پرلابنگ کیلئے کچھ پارلمینٹرینزکو کاپیاں بھیجی ہیں۔ اس بل کے مندرجات میں بہت سے اسلام اور قرآن وسنت کے خلاف کلاسز موجود ہیں۔یہ بل پہلی بار سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے بین الاقوامی ساہو کاروں اور مخض غیر مسلم لابی کی خوشنودی کیلئے پاس کرالیا گیا۔مگردباؤ کے تحت حکومت نے اس پر دستخط نہیں کئے،جو کہ کولیپس کرگیا۔25 اگست کو ایک خبر نشر ہوئی تھی کہ 24 اگست کو کچھ علماء اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل کے حوالے سے لابنگ کی جس پر علماء نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اس بل کے خلاف شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے ایک فتویٰ جاری کیا اور اس بل کو خلاف اسلام اور خلاف قرآن وسنت قرار دے دیا گیا۔
اس بل کے کلاس 3 اور کلاس 6کے متن کی رُو سے کسی غیر مسلم کے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے اسلام قبول کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ دوسرا جو کوئی ا سلام قبول کرنا چاہتے ہیں وہ باقاعدہ سیشن جج کو درخواست دے گا اور پھر سیشن جج اس کو90 دن اپنے نگرانی میں رکھ کر تقابل ادیاں کا مطالعہ کرائے گااور 90 دن کے بعد اس سے پوچھا جائے گا کہ آپ اسلام قبول کرتے ہیں یانہیں۔ا گروہ انکار کرتا ہے تو جن لوگوں نے اس پر اسلام قبول کرایا ہے مثلاًاگر باپ نے بیٹے پر اسلام قبول کرایا تھا تو اس قانون کے تحت باپ پر فوری مقدمہ درج کیا جائے گا اور اس پر 5سے10سال قید اور 1سے2 لاکھ جرمانہ وصول کیا جائے گا۔یہ بل اور اسلام قبول کرنے پر پابندی کا یہ قانون شریعت مطہرہ اور عدل وانصاف کے تمام تقاضوں سے متصادم ہے اور جبری تبدیلی مذہب روکنے کے نام پر اسلام قبول کرنے سے روکنے کی ایک سازش ہے۔
یہ بات درست ہے کہ کسی کو جبراً اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی غیر مسلم کے برضا اسلام لانے پر پابندی لگانا اور اس کو سابقہ مذہب پر باقی رہنے کیلئے مجبور کرنا ظلم ہے اس کا نہ تو شریعت مطہر ہ میں کو ئی جواز ہے اور نہ آئین پاکستان میں۔کیونکہ آئین پاکستان میں بھی درج ہے کہ کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔
اگلی بات کہ اسلام کی رُو سے اگر کو سمجھ دار بچہ جو دین اور مذہب کو سمجھتا ہوں اور اسلام لے آئے تو اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرنے کا حکم ہے اور شریعت میں بچہ پندرہ سال کی عمر میں بلکہ بعض اوقات اس سے پہلے بھی بالغ ہوسکتا ہے۔ اب ایسی صورت میں جب کہ وہ بالغ ہوکر شرعی احکام کا مکلف ہوچکا ہے،اسے اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سرسر ظلم اور بدترین زبردستی ہے اور اس قسم کا قانون کسی یورپ ملک میں بھی موجود نہیں ہوگا۔افسوس کہ یورپ میں 18 سال سے کم عمر لڑکی بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگ سکتی ہیں، کورٹ میرج کرسکتی ہے اس کیلئے قانون نہیں ہے اور اسلام لانے کیلئے انٹرنیشنل قوانین بنائے جاتے ہیں۔
کم عمری میں اسلام قبول کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے،بلکہ نبی کریم ﷺنے کم سنی میں اسلام قبول کرنے والوں کی بھر پور حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت علی نے 10 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا،
حضرت عمیر بن ابی وقاص نے 16 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا،معاذبن عمر بن جموح نے 12 یا 13 برس کی عمر میں غزوہ بدر میں شرکت کی اور ابوجہل کو جہنم رسید کیا،معاذبن عفرا 12 یا 13 سال کی عمر میں غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ابو جہل کو جہنم رسید کیا، حضرت زید بن ثابت نے 11 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا،عمیر بن سعد نے 10 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی،حضرت ابو سعید خدری 13 برس کی عمر میں غزوہ احد میں شرکت کیلئے پیش ہوئے،حضرت انس بن مالک 8 برس کی عمر میں آپ ﷺ کے خادم خاص بنے۔یہ صرف چند نمونے تھے ورنہ کم عمری میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے اور ان میں اکثر کو خاندان اور معاشرے کی طرف سے سخت ترین رکاؤٹ کا سامنا تھا۔
یہ امر انتہائی قابل مذمت ہے کہ موجودہ حکومت مسلسل دین اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف قانون سازی کررہی ہے۔اس موجودہ اسلام اور آئین مخالف بل سے پہلے حکومت وقف پراپرٹی بل، ڈومیسٹک وائلنس بل،عقیدہ ختم نبوت پرواریں اور عالمی اداروں (IMF (FATF,کی خوشنودی کیلئے اسی طرح اسلام مخالف سرگرمیوں کے راہ پر گامزن ہے۔
تمام مسلمانوں دینی، سیاسی جماعتوں اور وفاقی شرعی عدالت سے پرزور مطالبہ ہے۔کہ اس اسلام مخالف قانون کو روکنے کیلئے اپنا دینی فریضہ ادا کریں اور شرعی عدالت از خود نوٹس لے کر اس قانون کو غیر مؤثر قرار دے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.