نام کے شخصیت پر اثرات (عبدالوارث ساجد)

0

سیانے کہا کرتے تھے کہ بچے کا نام خوب سوچ سمجھ کر رکھنا چاہیے کیونکہ نام کے بچے کی شخصیت پر اثرات ہوتے ہیں پہلے پہل ہم اس کو ایویں سمجھا کرتے تھے بھلا نام سے بچے پر کیا اثر لیکن حالات و واقعات نے سکھایا کہ بھئی جو باتیں زمانے میں مشہور ہیں ایسے ہی نہیں ہیں وہ داناؤں نے تجربے کے بعد ہی کہیں تھیں اور سچی اور کھری تھیں تو اب تک چلی آ رہی ہیں۔
نام کے حوالے سے بات کریں سیرت رسولؐ اور احوال صحابہ کرامؓ کے تذکروں سے مختلف واقعات ملتے ہیں ؒ کہ آپؐ نے بہت سے لوگوں کے نام تبدیل کیے تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو پرانے نام میں حرج نہ ہوتا۔ اسلام قبول کرنے والی کی شخصیات کے نام بدلنے کی درجنوں مثالیں ہیں۔ یہ بات بھی زور آور لگتی ہے کہ نام کے اثرات ضرور شخصیت کا عنصر بنتے ہیں نام کے معنی بھی اثر انداز ہوتے ہیں جن کی بناء پر نام تبدیل کر دئیے جاتے ہیں۔
بعض لوگ نے مشہور کر رکھا ہے کہ ”نام میں کیا رکھا ہے“ یہ غلط بات مشہور ہے سچ تو یہ ہے کہ نام ہی میں سب کچھ رکھا ہے۔ نام شخصیت کی پہچان ہوتے ہیں اور اثرات بھی رکھتے ہیں۔
نام رکھتے ہوئے یہ سوچ غالب ہونی چاہیے کہ بچوں کے نام اسلامی ہوں مگر اب تو بڑے بڑے عجیب نام سامنے آتے ہیں ایسے کہ ان کے معنی سنیں تو رونے کو دل کرتا ہے۔ دورحاضر کی ماؤں کو صرف ایک بات ہی سوجھتی ہے کہ ان کے بچوں کا نام بس سب سے منفرد ہو۔ معنی کیا ہے اس کی کوئی فکر نہیں۔ ایسے کام طبقے بالخصوص اداکار کرتے ہیں اور ان کی حرکتیں بھی نام کی طرح عجیب ہوتی ہیں ان کی دیکھا دیکھی پھر عام لوگ بھی یہی چلن اپناتے ہیں۔ اور نقل اپنانے کا چلن ہماری قوم میں اب فخر بنتا چلا جا رہا ہے کوئی مشہور آدمی گالی بکتا ہے تیا عوامی اجتماع میں بدمزگی کرتا ہے تو بھی فیشن قرار دے کر بہت سے ہیرو بننے کے چکر میں ایسا کرتے نظر آتے ہیں، غلط پارکنگ روکنے، پولیس وارڈن سے بدتمیزی اور پھر میڈیا پر اس کی تشہیر تو اب عام آدمی کا چلن بن گیا ہے مگر پہلے پہلے یہ ہائی کلاس سے شروع ہواتھا۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف ہمارے پاکستانی فنکار ہی عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے فنکاروں کی کمی نہیں ہے۔ آئے دن خبریں آتی ہیں کہ فلاں فنکار نے ملازمہ کو ٹیلیفون سیٹ مارکر زخمی کر دیا، فلاں نے پولیس سے جھگڑا کیا، فلاں نشے کے عالم میں توڑ پھوڑ کرتا ہوا پکڑا گیا، فلاں شراب پی کر کار چلاتا ہوا گرفتار ہوا یا ہوئی، ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشہور فنکار شاپنگ سنٹر سے چیزیں چوری کرتے ہوئے بھی پکڑے گئے، ویسے یہ انگریز بھی خوب قوم ہے۔ فنکار تو کیا عام لوگ بھی بڑے ”فن کار“ ثابت ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خاتون نے عجائب گھر سے پورے کا پورا اژدھا چوری کر لیا اور اپنے کپڑوں میں چھپا کر لے جا رہی تھیں کہ دھر لی گئیں۔
اب ذرا ایک معروف برطانوی گلوکارہ کی بھی سن لیجئے، ان کا نام ”وائین ہاؤس“ ہے بہت عجیب سا نام ہے اردو میں اس کا ترجمہ ”شراب خانہ“ ان صاحبزادی کی عمر ابھی صرف24 سال ہے لیکن پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں۔ کئی سال قبل ہی گلوکارہ کی حیثیت سے انہوں نے شہرت حاصل کر لی تھی۔ شہرت کے ساتھ دولت بھی خوب کمائی، لڑکپن میں ہی اگر کوئی دولتمند ہو جائے تو اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ وائین ہاؤس نے بھی چوری چھپے بہت سی غلطیاں کیں لیکن ان کی ایک غلطی لوگوں سے چھپی نہیں رہ سکی۔ مے نوشی ان کی کمزوری ہے۔ مے نوشی ان کے معاشرے میں کوئی معیوب چیز نہیں ہے۔ بچے بڑے بوڑھے عورت مرد سبھی شراب پیتے ہیں۔ اگر کلبوں، مے خانوں، گھروں وغیرہ میں پئیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے البتہ اگر سڑکوں، بازاروں میں جا کر غل غپاڑہ کریں یا شراب پی کر کار چلائیں تو اگر ملک کے وزیراعظم بھی ہیں تو پکڑے جائیں گے اور سزا بھی ملے گی۔
مس وائین ہاؤس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کئی بار پکڑی جا چکی ہیں انہیں وارننگ بھی دی گئی، گرفتار بھی ہوئیں، بار بار گرفتار ہوئیں لیکن وہی بات ہے کہ
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
پچھلے دنوں وہ پھر شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کے جرم میں دھر لی گئیں۔
وہ عدالت میں یہ عذر بھی پیش کر سکتی ہے کہ جناب عالی! یہ پولیس والے اگر انگریزی نہیں جانتے تو میرا کیا قصور ہے؟ وائین ہاؤس کا تو مطلب ہی چلتا پھرتا شراب خانہ ہے ایسی صورت میں انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ یا تو انہیں اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے یا پھر عدالت کے حکم سے ان کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ شراب خانے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ شراب سے خالی ہو گا، کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس لیے کہتے ہیں کہ نام انسان کی شخصیت کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی شخص کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے۔ خوبصورت نام اگر سنتے ہی اچھے لگتے ہیں تو وہیں ان کے اثرات ہماری شخصیت اور مزاج پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں نام وہاں کی مقامی زبان، انداز اور روایت کے مطابق ہوتے ہیں۔ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام رکھنے کے لیے اہل خانہ کافی سوچ بچار سے کام لیتے ہیں۔ خاندان کے ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پسند سے نام رکھا جائے۔ اس معاملے میں گھر کے ہر فرد کی رائے ضرور شامل ہوتی ہے۔ چھوٹے سے بڑے تک ہر کوئی بہتر سے بہتر نام تلاش کرنے کی تگ و دو میں دن رات مصروف رہتا ہے۔ اگر کسی کی بات نہ مانی جائے تو وہ کئی دن تک اپنی ناراضگی کا کسی نہ کسی بہانے سے اظہار کرتا رہتا ہے حالانکہ پہلے یہ سارے مسائل جنم ہی نہیں لیتے تھے بلکہ بڑے بزرگ خود ہی بچے کا نام تجویز کر دیتے تھے۔
چند سال قبل تک گھر کے بزرگ یعنی بچے کے نانا، نانی، دادا، دادی بچے کا نام ایک گھریلو تقریب میں رکھتے تھے لیکن بہت سی بدلتی روایات کے ساتھ یہ روایت بھی دم توڑ گئی ہے۔ آج کل کے دور میں والدین اپنے بچے کا نام خود تجویز کرتے ہیں اور بعد میں سب کو بتا دیا جاتا ہے۔
بچوں کے نام کے حوالے سے یہ تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ اسلامی ناموں کی بجائے افسانوی بے معنی اور مشکل نام رکھنے کا رجحان زیادہ فروغ پا گیا ہے۔ بہت کم خاندان ایسے ہیں جہاں اسلامی نام رکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے مگر ماڈرن اور مشکل ناموں کو پسند کرنے والوں کی زیادہ تعداد ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ پہلے تو بچے کا زائچہ بنوا کر کسی خاص حرف سے نام تلاش کیا جاتا تھا لیکن اب بچے کی پیدائش پر خاص ناموں والی کتابیں منگوائی جاتی ہیں جن میں سے مشترکہ نام چنا جاتا ہے۔ بدلتی روایات کے ساتھ جہاں اپنی پسند کا منفرد نام رکھنے کا رواج ہو گیا ہے وہیں فیشن کے طور پر ناموں کو بگاڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جیسے جمشید کو جمی، زاہد کو زیدی اور زبیدہ کو زیبی وغیرہ، نام کو بگاڑ کر انگلش لب و لہجے میں بولنا بھی آج کل بطور فیشن فروغ پا رہا ہے۔ حالانکہ اسلامی ناموں کو نہ بگاڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور خوبصورت مطالب والے ناموں کو ترجیح دی گئی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام ختم ہو گیا ہے، لوگ اکھٹے نہیں رہنا چاہتے، کوئی بھی اپنی نجی زندگی میں کسی دوسرے کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ماں باپ اپنے بچے کا نام بھی خود رکھتے ہیں۔ آج کل کے والدین سمجھتے ہیں کہ انہیں بزرگوں سے مشورہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ بچہ ان کا ہے اور وہ اس کے بارے میں بہترین فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ہم نے مغرب کی اندھا دھند تقلید کی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا نے لوگوں کی سوچ ہی تبدیل کر دی ہے۔ اسی لیے بچے کا نام رکھتے ہوئے والدین کی مرضی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اب زمانہ بدل رہا ہے، ماں باپ اپنے بچوں کے نئے اور منفرد نام رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ بزرگوں کے پاس پرانے نام ہوتے ہیں۔ جن کے متعلق بعد میں بچہ خود بھی بڑا ہو کر کافی شور مچاتا ہے کہ میرا یہ فضول سا نام کس نے رکھا تھا؟ اس پر والدین شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اسی لیے والدین اپنے بچے کا ماڈرن سا نام رکھنے پر ساری توجہ مرکوز دیتے ہیں۔
ان بدلتی روایات میں بہت سے عناصر کارفرما ہیں۔ جیسے میڈیا کی مقبولیت مشترکہ خاندانی نظام کا خاتمہ، صبر و برداشت کی کمی، بزرگوں کی عزت میں کمی، فیشن یا مغربی نظام کی طرف بڑھتے قدم، وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن اس کی بدولت ہمارا معاشرہ اس تقریب سے محروم ہو گیا جو اکھٹے اور مل بیٹھنے کی وجہ بنتی تھی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.