بیوہ و مطلقہ خواتین کی اجیرن زندگی (رانا اعجاز حسین)

0

   آج کے معاشرے میں بیوہ و مطلقہ خواتین کی زندگی کس قدر پیچیدہ و پرخار ہے ، اس کا اندازہ وہی خاتون کرسکتی ہے جو اس قرب سے گزر رہی ہے ، یا وہ لوگ جن کی کوئی قریبی عزیزہ اس دکھ کو جھیل رہی ہے،کہ کس طرح جب ایک جیون ساتھی داغ مفارقت دے جائے تو دوسرا معاشرے کے رحم و کرم پررہ جاتاہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کو عزت و احترام اور جینے کا مناسب حق دینے کی بجائے انہیں کہیں منحوس خیال کرتے ہوئے دربدر کردیا جاتا ہے تو کہیں انہیں مورد الزام ٹھہرا کر ان کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے ۔خواتین یا نوجوان لڑکیوں کی طلاق و خلع ظاہر ہے کہ انتہائی ناگزیر صورت حال میں ہی واقع ہوتی ہے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایسا کیوں ہوا اور کس کا قصور تھا، عام طور پر انہیں مختلف نوعیت کے منفی اور روایتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ایک طرف گھر بسانے کی اہلیت نہ ہونے کے طعنے ہوتے ہیں، اوردوسری طرف ترس بھری نظریں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ ذاتی معاملات سے متعلق پر تجسس سوالات جو ان خواتین کی زندگی کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اور پھر ایسی خواتین سے ہمدردی کے نام پر جنسی درندے ان کی عزت نفس تک کو مجروع کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔اس طرح انہیں ذہنی مریض بناکر رکھ دیا جاتاہے۔ یوں توہردورمیں مظلومی اورمحکومی عورت کا مقدر رہی ہےوہ اذیت اور ذلت کابوجھ اٹھائے تاریکیوںکے جنگلوں میں بھٹکتی رہی ہے ۔ نور اسلام سے قبل کہیںصنفی امتیاز کے سبب عورت کو زندہ دفن کیاگیاتوکہیں شوہر کی وفات پرخودسوزی کے لیے مجبورکیاگیا، اسطرح بحیثیت انسان اسے اس کے جائزمقام اورحقوق سے ہمیشہ محروم رکھاگیا۔ لیکن جب اسلام کامہرتاباںطلوع ہواتو اس کی بے نور زندگی عفو وکرم ، رحمت ومودت، حسن سلوک سے منورہوگئی۔ بلاشبہ اسلام دین فطرت ہے جو کہ عورت کو بحیثیت انسان تمام فطری اورجائز حقوق عطاکرتاہے ۔ خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خواتین نے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی مثال پہلے کبھی موجود نہ تھی، خود پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی شاندار نمونہ اور بہترین اسوہ ہے ۔ آپ نے جہاں خواتین کو معاشرے میں باعزت زندگی اور اعلیٰ مقام عطا کیا، خواتین کو ہر قسم کے بے بنیاد الزامات و اتہامات سے بری قرار دیا اور طنز و تشنیع کا نشانہ بننے سے ان کا تحفظ کیا جو مختلف معاشروں، سوسائٹیوں اور اقوام میں ان کی تحقیر و تذلیل، رسوائی اور حقوق سے محرومی کا سبب بن رہے تھے یا آج تک بنتے چلے آرہے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے ہدایت یافتہ معاشرے میں کسی بیوہ کو مرد کے سہارے کے بغیر تنہا چھوڑ دینا نا پسندیدہ تھا، آپ نے بیوگی اور طلاق کی صورت میں بے بسی و بے کسی کی زندگی گزارنے کے مسائل سے بھی ان کی حفاظت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بیوہ اور مسکین کی خبرگیری کرنے والا اﷲتعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنیوالے کی طرح ہے “۔ ایک اورروایت کے الفاظ ہیں ”بیوہ اور مسکین کی خبرگیری کرنیوالاایسے تہجد گزارکی طرح ہے جو سست نہیں ہوتا اور ایسے روزے دارکی طرح ہے جو ناغہ نہیں کرتا“۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی تاکید فرمائی اور عملی نمونہ پیش کیا کہ کوئی عورت بیوہ ہو جائے کہ اس کا شوہر انتقال کر جائے اور اپنے پیچھے یتیم بچے چھوڑ جائے یا کوئی مرد طلاق دے دے تو ایسی عورتوں کی دلجوئی کریں، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھیں، ان سے نکاح کرلیں اور ان کے بچوں کی پرورش کریں۔خود رسول کریم نے کئی مطلقہ اور بیوہ خواتین سے نکاح کیے اور ان بے سہارا خواتین کا سہارا بننے کے ساتھ دین اسلام کی تبلیغ و دعوت کے کاموں میں مدد لی۔رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں صرف ایک حضرت عائشہؓ کے علاوہ سب مطلقہ اور بیوہ تھیں، بعض تو کئی بار کی مطلقہ اور بیوہ تھیں، اور ان تمام نکاحوں کی بنیاد اسلام کا فروغ، بہترین ملکی و ملی مصالح اور مسلمانوں کے لیے مقاصد حسنہ پر تھی۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”اے لوگو! جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو۔ دو، تین۔ تین، چار۔ چار سے نکاح کر لو اور اگر یہ خطرہ ہو کہ عورتوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام نہ لے سکو گے تو پھر ایک ہی پر اکتفا کرو“ (سورة النساء)۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت میں نکاح کا حکم دو دو سے شروع کیا گیا ، اور ایک نکاح کا حکم صرف ایسے مردوں کے لیے ہے جو عدل و انصاف نہ کرسکتے ہوں۔ آج کے معاشرے میں شادی شدہ حضرات مزید ضرورت کے لئے خفیہ گرل فرینڈز تو رکھ لیتے ہیں مگر معاشرے کے نام نہاد خوف کے باعث عزت کے ساتھ دوسری شادی کے لئے آمادہ نہیں ہوتے ۔ دوسری طرف کنواروں کی مائیں، بہنیں، بیوہ یا مطلقہ سے شادی کے معاملے میں جذباتی رکاوٹ بن جاتی ہیں اور بیویاں بھی شوہروں کی ،دلچسپیاں،علم میں آجانے کے باوجود ان کی گرل فرینڈز تو برداشت کر لیتی ہیں مگر سوتن کی حیثیت سے ان کو اپنی محبت میں حصہ دار بنانے کو تیار نہیں ہوتیں۔ جب ایک جیون ساتھی داغ مفارقت دے جائے تو دوسرا معاشرے کے رحم و کرم پررہ جاتاہے،جانے والے کی کمی تو سارازمانہ مل کر بھی پوری نہیں کرسکتالیکن کم از کم حقوق و فرائض کی ادائیگی میں تو تعاون کرنا انسانیت کے اعلیٰ ترین تقاضوں میں سے ایک ہے ۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور متعدد نکاح کو فروغ دے کر بیوہ و مطلقہ خواتین کا سہارا، اور خوشیوں کے لیے ان کا ساتھی بننا چاہیے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.