کے پی کے کی سب سے بڑی روحانی شخصیت سید علی غواص ترمذی المعروف پیرباباؒ(پہلی قسط)حافظ مومن خان عثمانی

0

حضرت سید علی غواص ترمذی المعروف ”پیرباباؒ“908ھ بمطابق1502ء کو قندوز]ترمذ[ میں پیداہوئے،ان کے والد سیدقنبرعلی شاہ مغل بادشاہ ظہیرالدین بابرکے داماد اور دربار کے تعلق داربلکہ فوج کے سپہ سالار تھے،آپ کی والدہ بابربادشاہ کی بیٹی تھی۔ آپ کے داداسید احمدنوریوسف ایک عالم دین،متشرع بزرگ،صوفی باصفا اور ولی اللہ تھے،آپ حضرت سیدناامام حسین ؓ کی اولاد سے ہیں،حضرت سید علی ترمذی ؒنے ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے داداسیداحمد یوسف ؒسے حاصل کی،اپنے والد کی روش چھوڑ کر اپنے داداکاطریقہ اختیار کیا اور ان سے سلسلہ کبرویہ میں اجازت وخلافت بھی حاصل کی۔1526ء میں جب بابربادشاہ نے دہلی پر فوج کشی کرتے ہوئے دہلی کو فتح کیا اور ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی،1530ء میں بابر بادشاہ کے مرنے کے بعد ہمایوں ہندوستان کے بادشاہ بنے،ہمایوں کے دوراقتدار میں پیربابا بھی اپنے والد کے ساتھ دہلی چلے گئے تھے،پیر بابا کی خواہش تھی کہ دہلی سے باہر نکل کر دوسرے شہروں کو دیکھا جائے،چنانچہ آپ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پانی پت چلے گئے جہاں شیخ الاسلام شیخ شرف الدین پانی پتی کا مزار ہے،اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ یہیں بیٹھیں میں مزار پر دعاکرکے آتا ہوں،مزار پر دعاکے بعد پیر بابا اپنے ساتھیوں سے چھپ کر حصول علم کی تلاش میں نکل گئے،انہوں نے بہت تلاش کیا مگر نہ ملے انہوں نے واپس جاکر پیربابا کے والد قمنبر علی سے تمام واقعہ بیان کیا تو وہ سمجھ گئے کہ ان کا بیٹا حصول علم کی تلاش میں کہیں چلاگیا ہوگا،کچھ عرصہ بعد انہوں بیٹے کی تلاش شروع کی تو ایک مسجد کے کونے میں پایا،والد صاحب نے ان کو گھرلے جانے کی بہت کوشش کی مگر وہ اپنے گھرجانے کے لئے تیار نہ ہوئے،پھر انہوں خرچہ کے لئے کچھ پیسے اور اشرفیاں دیناچاہی مگر انہوں نے لینے سے انکار کیا۔پیربابا نے اپنے والد سے کہا کہ جب میں اللہ کے دین کے علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلاہوں تو رزق بھی اللہ ہی دے گا اس لئے مجھے ان پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔پیربابا کے والد واپس دہلی روانہ ہوئے اور پیربابا وہاں سے مانک پورشہر چلے گئے اور وہاں شیخ سیلونہ ؒ سے دینی علوم میں شاگردی اختیار کی،شیخ سیلونہ بھی ایک عابد زاہد اور اہل طریقت بزرگ تھے،پیر بابا ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور ان سے تصوف وطریقت کے حصول کی درخواست کی مگر انہوں نے کہا مجھے اپنے پیر ومرشد کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے۔
حضرت پیرباباکے دادسید احمدنوریوسف صاحب جب اللہ کو پیارے ہوئے تو پیرباباؒ کے دل پراس کابہت اثر ہوا اور انہیں والدین کی زیارت کا شوق پیدا ہوا چنانچہ وہ دہلی اپنے والدین کے پاس آگئے،والد صاحب نے ان کے لئے شاہانہ کپڑے بنوائے اور اپنے ساتھ شاہی دربار میں لے جانے لگے،اگرچہ ہمایوں بادشاہ ان کے اپنے ماموں تھے مگر ان کا دل شاہی دربارمیں نہ لگا، گھر آکر انہوں نے وہ کپڑے نکال کر علماء وصلحاء کا لباس پہنا اور علماء وصوفیاء کی مجالس میں جانا شروع کیا۔ اس کے بعدپیربابا صاحبؒ علوم باطنیہ کے حصول کے لئے شیخ سالارعطاء اللہ رومیؒ کے ہاں اجمیر شریف چلے گئے، شیخ سالاررومی ؒ سے بیعت ہوئے،طویل عرصہ شیخ کی خدمت میں رہ کر سلوک وتصوف کے منازل طے کئے اور چہارسلسلوں چشتیہ،سہروردیہ،شطاریہ اور ناجیہ وجلاجیہ میں ان کے ماذون وخلیفہ ہوئے۔علوم باطنیہ میں کمال حاصل کرنے کے بعدپیربابا صاحبؒ اپنے پیرومرشدشیخ سالار رومی کے ارشاد کے مطابق علاقہ کوہستان روانہ ہوئے۔گجرات پہنچ کر آپ نے چند دن وہاں قیام کا ارادہ کیا اسی قیام کے دوران شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کیا اور اپنی حکومت قائم کردی،شیرشاہ سوری نے ہمایوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت دی تھی،چنانچہ ہمایوں اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایران کے لئے روانہ ہوا،جس میں پیربابا کے والدین بھی ان کے ہمراہ تھے،لاہور پہنچ کر پیربابا کے والدین ہمایوں کے قافلے سے الگ ہوکرپشاور کے راستے اپنے وطن قندوز روانہ ہوئے،جب قمنبر علی شاہ گجرات پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے فرزند سید علی بھی یہیں مقیم ہے تو وہ صاحبزادے کی ملاقات کے لئے گئے،ملاقات میں سید قمنبر علی نے اپنے صاحبزادہ نے کہا:”افسوس کہ میں غلطی پر ہوں اور آپ نے اپنے اجداد کے راستے کو اختیار کیا،دین ودنیا میں یہی کام ہے جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم اس مرتبہ کوپہنچے۔“والدین نے پیر بابا سے کہا کہ آپ بھی تیاری کرلیں اپنے وطن قندوز جانے کے لئے،مگر انہوں نے فرمایا:”میں واپس اجمیر جارہاہوں وہاں سے کشمیر جانے کا ارادہ ہے اگر زندگی رہی تو پھر کبھی آؤں گا۔“یہ حضرت پیربابا کی اپنے والد بزرگوار کے ساتھ آخری ملاقات تھی،اس دوران سید قمنبر علی نے اپنے فرزند کو دوتھیلیاں دیں ایک میں روپے اور دوسری میں اشرفیاں تھیں،مگر پیربابا نے لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم فقیروں پر تقسیم کیجئے مجھے اس کی ضرورت نہیں مگر والد کے اصرار اور ناراضگی کے خوف سے وہ تھیلیاں اپنے خادم کے حوالے کردیں،پیر بابا کے والدین کابل کی طرف روانہ ہوئے اور پیربابا نے کچھ عرصہ وہیں قیام کیا یہ 1540 کاواقعہ ہے، اس وقت آپ کی عمر چالیس سال سے کم تھی۔آپ اجمیر شریف اپنے پیر ومرشد سالار رومی ؒ کے پاس اس نیت سے چلے گئے کہ جاکر ان سے عرض کریں کہ پیری مریدی کایہ سلسلہ ان سے واپس لے لیا جائے تا کہ وہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام یکسوئی کے ساتھ انجام دے سکیں۔راستہ میں شیرشاہ سوری کی فوجیوں نے آپ کو گھیر لیا پہلے تو انہوں نے کوئی مغل سمجھ کر قتل کرنا چاہا لیکن جب پیربابا نے ان سے پشتو میں گفتگوکی تو وہ قتل کرنے سے تورک گئے مگر کہنے لگے آپ کے پاس جو کچھ مال ودولت ہے وہ نکال کر ہمارے حوالے کردیں،وہ دوتھیلیاں جو آپ کواپنے والد صاحب کی طرف سے ملی تھیں ان کے حوالے کردیں اور اجمیر کے لئے روانہ ہوگئے،جب آپ اجمیر پہنچے تو آپ کے پیرومرشد حضرت سالارعطاء اللہ رومیؒ کا انتقال ہوچکاتھا،ان کے صاحبزادے سید حسینؒ ان کے جانشین بن کر ان کی گدی سنبھال چکے تھے،وہ مراقب تھے جب انہوں نے مراقبہ سے سراٹھایا تو پیرباباؒ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا:”اے سید علی!مجھے ابھی مراقبہ میں حضرت والد مشفق ومحترم نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دوخرقے باقی رہ گئے ہیں ایک کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مریدین میں بانٹ دو،اور دوسرا خرقہ اس کو دے دو جو ابھی آئے،پس آپ ہی اس کے لینے میں حق بجانب ہیں کہ آئے ہیں،چنانچہ وہ خرقہ آپ کو پہنادیاگیا۔“ حضرت پیربابا ؒنے اپنے پیرومرشد کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ پڑھی،چنددن قیام کیا پھرسید حسین ؒنے پیربابا کو اپنے والد کی وصیت یاد کرائی کہ والد صاحب نے آپ کو کوہستانی علاقہ میں بھیجا تھا اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کشمیر جانا پسند کرتے ہیں یا اپنے علاقہ قندوز کیونکہ وہ بھی کوہستانی علاقہ ہے،پیربابا وہاں سے کشمیر کے ارادہ سے روانہ ہوئے جہلم پہنچ کر آپ نے ایک سال وہاں قیام کیا،کشمیر کا ارادہ ترک کرکے اپنے وطن قندوز جانے کا ارادہ کرلیا،وہاں سے آپ پشاور آئے،جہاں آپ ملک سیف اللہ کگیانی اور ملک گدائی کگیانی کے ہاں بطورمہمان ٹھہرگئے،ان دونوں ملکوں کا اجمیر آناجاناتھا اور اسی وجہ سے وہ حضرت پیرباباؒ سے واقفیت رکھتے تھے،دوتین دن کے بعد جب پیربابااپنے وطن قندوزجانے لگے تو ان ملکوں نے پیربابا سے عرض کیا کہ آپ ایک ہفتہ کے لئے ہمارے علاقہ دواوہ چلے جائیں،ہمارے قبیلہ کو وعظ ونصیحت کرلیں گے اور آرام بھی کرلیں گے پھر وہاں سے اپنے وطن چلے جائیں گے،حضرت پیرباباؒوہاں چلے گئے کچھ دن وعظ ونصیحت کرکے اپنے وطن جانے لگے تو لوگوں نے پھر آپ سے کہا کہ اللہ کے لئے آپ ایک سال یہاں قیام کیجئے ہمارے بچوں کو دینی تعلیم دیجئے اور عوام کو دین کے بارہ میں آگاہ کریں۔آپ نے علم طریقت کے ساتھ ساتھ علم دین کا درس بھی جاری کیا جس سے لوگوں میں دینی شعور بیدار ہوگیا اور بہت سے لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں آگئے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.